سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في النهى أن يبيع حاضر لباد
باب: شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے۔
حدیث نمبر: 3441
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ، فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ".
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3441]
جناب سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی ایک دودھ والی اونٹنی لایا اور سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرا (اور چاہا کہ طلحہ اسے فروخت کر دیں) تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے فروخت کرے۔ لیکن تم خود بازار جاؤ اور دیکھو کہ کون تم سے خریدنا چاہتا ہے، پھر مجھ سے مشورہ کر لینا حتیٰ کہ میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم نے اس سے سودا کرنا ہے یا نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5019) (ضعیف الإسناد)» (اس کی سند میں ایک راوی اعرابی مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥طلحة بن عبيد الله القرشي، أبو محمد | صحابي | |
👤←👥اسم مبهم اسم مبهم ← طلحة بن عبيد الله القرشي | 0 | |
👤←👥سالم بن شوال المكي سالم بن شوال المكي ← اسم مبهم | ثقة | |
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر ابن إسحاق القرشي ← سالم بن شوال المكي | صدوق مدلس | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ابن إسحاق القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3441
| نهى أن يبيع حاضر لباد |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3441 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3441
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم اس میں شبہ نہیں کہ خیر القرون میں مسلمان اتباع رسول اوراپنے مسلمان بھایئوں کے ساتھ خیر خواہی میں بہت ہی اونچے درجے پر تھے۔
اس واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی رعایت ملحوظ رکھے ہوئے دوسرے مسلمان کی خیر خواہی کا بھی پورا اہتمام ہے۔
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم اس میں شبہ نہیں کہ خیر القرون میں مسلمان اتباع رسول اوراپنے مسلمان بھایئوں کے ساتھ خیر خواہی میں بہت ہی اونچے درجے پر تھے۔
اس واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی رعایت ملحوظ رکھے ہوئے دوسرے مسلمان کی خیر خواہی کا بھی پورا اہتمام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3441]
Sunan Abi Dawud Hadith 3441 in Urdu
اسم مبهم ← طلحة بن عبيد الله القرشي