سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب في تفسير الجائحة
باب: «جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟
حدیث نمبر: 3471
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" الْجَوَائِحُ كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ مِنْ مَطَرٍ، أَوْ بَرَدٍ، أَوْ جَرَادٍ، أَوْ رِيحٍ، أَوْ حَرِيقٍ".
عطاء کہتے ہیں «جائحہ» ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کر سکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہو گئی ہو، پالا پڑ گیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کر گئی ہوں، آندھی آ گئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3471]
جناب عطاء رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”آفت سے مراد (وہ) تمام ظاہری اسباب ہیں، مثلاً بارش، ژالہ باری، ٹڈی دل، آندھی یا آگ لگنا وغیرہ (جو کھیت یا مال کو ضائع کر دیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19064) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن الحكم الجذامي عثمان بن الحكم الجذامي ← ابن جريج المكي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← عثمان بن الحكم الجذامي | ثقة حافظ | |
👤←👥سليمان بن داود المهري، أبو الربيع سليمان بن داود المهري ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3471 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3471
فوائد ومسائل:
آفات تین طرح کی ہوسکتی ہیں۔
1۔
جو فصل یا پھل کو کسی نہ کسی طرح قابل استعمال ہونے کے مرحلے پرلگتی ہیں۔
یہ قدرتی بیماریاں ہیں۔
جب فصل یا پھل اس مرحلے میں ہو تو اسے بیچنا منع ہے۔
2۔
پھل پکنے کے قریب ہوتا ہے تو بعض پھلوں (مثلا کھجور) کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔
اس مرحلے پر درختوں پر لگے ہوئے پھل بیچنا جائز ہے۔
اب ان کو یا تو بارش ژالہ باری آندھی وغیرہ سے نقصان ہوگا۔
اور اس صورت میں پھل کسی نہ کسی طرح قابل استعمال ہوچکا ہوگا۔
اور مکمل تباہی سے بچائو ہوسکے گا۔
3۔
یا تیسری صورت ٹڈی دل آگ وغیرہ کی آفات کی ہے۔
اس صورت میں مکمل تباہی ہوگی۔
ایسی تباہی کی صورت میں مالک کا بھی فرض ہے۔
کہ تلافی میں شریک ہو۔
آفات تین طرح کی ہوسکتی ہیں۔
1۔
جو فصل یا پھل کو کسی نہ کسی طرح قابل استعمال ہونے کے مرحلے پرلگتی ہیں۔
یہ قدرتی بیماریاں ہیں۔
جب فصل یا پھل اس مرحلے میں ہو تو اسے بیچنا منع ہے۔
2۔
پھل پکنے کے قریب ہوتا ہے تو بعض پھلوں (مثلا کھجور) کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔
اس مرحلے پر درختوں پر لگے ہوئے پھل بیچنا جائز ہے۔
اب ان کو یا تو بارش ژالہ باری آندھی وغیرہ سے نقصان ہوگا۔
اور اس صورت میں پھل کسی نہ کسی طرح قابل استعمال ہوچکا ہوگا۔
اور مکمل تباہی سے بچائو ہوسکے گا۔
3۔
یا تیسری صورت ٹڈی دل آگ وغیرہ کی آفات کی ہے۔
اس صورت میں مکمل تباہی ہوگی۔
ایسی تباہی کی صورت میں مالک کا بھی فرض ہے۔
کہ تلافی میں شریک ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3471]
Sunan Abi Dawud Hadith 3471 in Urdu
ابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي