🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ
باب: «جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3472
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا جَائِحَةَ فِيمَا أُصِيبَ دُونَ ثُلُثِ رَأْسِ الْمَالِ". قَالَ يَحْيَى: وَذَلِكَ فِي سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ.
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3472]
جناب یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ”اصل مال کی تہائی سے کم میں آفت آئے (اور نقصان ہو جائے) تو اس کی تلافی ضروری نہیں ہے اور مسلمانوں میں ایسے ہی رائج ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19534) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک تہائی سے کم نقصان ہو تو قیمت میں مشتری کے ساتھ رعایت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ تھوڑا بہت تو نقصان ہوا ہی کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيدثقة ثبت
👤←👥عثمان بن الحكم الجذامي
Newعثمان بن الحكم الجذامي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عثمان بن الحكم الجذامي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن داود المهري، أبو الربيع
Newسليمان بن داود المهري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
Sunan Abi Dawud Hadith 3472 in Urdu