پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب في عهدة الرقيق
باب: غلام اور لونڈی کی خریداری میں خریدار کے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 3507
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلَاثِ لَيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلَاثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ، أَنَّهُ اشْتَرَاهُ وَبِهِ هَذَا الدَّاءُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ.
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تین دن کے اندر ہی اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اسے بغیر کسی گواہ کے لوٹا دے گا، اور اگر تین دن بعد اس میں کوئی عیب نکلے تو اس سے اس بات پر بینہ (گواہ) طلب کیا جائے گا، کہ جب اس نے اسے خریدا تھا تو اس میں یہ بیماری اور یہ عیب موجود تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تفسیر قتادہ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3507]
جناب قتادہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور مزید کہا: ”اگر تین (دن) رات تک اس میں کسی عیب سے مطلع ہوا تو گواہ پیش کیے بغیر ہی اسے واپس کر سکے گا، اور اگر تین دن کے بعد مطلع ہوا تو اسے گواہ پیش کرنا ہو گا کہ جب اسے خریدا تھا تو اس میں یہ عیب تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ توضیح جناب قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9917) (ضعیف) وسندہ إلی قتادة صحیح» (حسن بصری کا سماع عقبہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف وسنده إلى قتادة صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (3506) و إن كان ھذا من قول قتادة فسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
ضعيف
انظر الحديث السابق (3506) و إن كان ھذا من قول قتادة فسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3507 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3507
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
مذکورہ دونوں روایات سندا ضعیف ہیں۔
تاہم علماء کی عام رائے یہی ہے۔
کہ اگرکوئی شخص غلام خریدے، لیکن اس میں کوئی عیب نکل آئے تو تین دن کے اندر اسے واپس کیا جاسکتا ہے۔
اور مالک کے لئے ضروری ہوگا کہ اسے واپس لےلے۔
کیونکہ وہ اس بات کا ضامن ہے۔
کہ جس غلام کو وہ بیچ رہا ہے۔
وہ صحیح ہو اور ہرقسم کے عیب سے پاک ہو۔
فائدہ۔
مذکورہ دونوں روایات سندا ضعیف ہیں۔
تاہم علماء کی عام رائے یہی ہے۔
کہ اگرکوئی شخص غلام خریدے، لیکن اس میں کوئی عیب نکل آئے تو تین دن کے اندر اسے واپس کیا جاسکتا ہے۔
اور مالک کے لئے ضروری ہوگا کہ اسے واپس لےلے۔
کیونکہ وہ اس بات کا ضامن ہے۔
کہ جس غلام کو وہ بیچ رہا ہے۔
وہ صحیح ہو اور ہرقسم کے عیب سے پاک ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3507]
Sunan Abi Dawud Hadith 3507 in Urdu
همام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي