سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ
باب: قاضی (جج) سے فیصلہ میں غلطی ہو جائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي يَحْيَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ إِلَى قَوْلِهِ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 44 ـ 47 هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً فِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» ”جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں“ اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: (۴۴، ۴۵، ۴۷) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3576]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”سورۃ المائدہ کی یہ تینوں آیات: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] «إِلَى قَوْلِهِ» ”ان کے ارشاد تک“ ﴿الْفَاسِقُونَ﴾ [سورة المائدة: 47] یہودیوں کے قبائل بالخصوص قریظہ اور بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238،271) (حسن، صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12254
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12254
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3576 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3576
فوائد ومسائل:
فائدہ: ان آیات میں ہے کہ جو فیصلہ کرنے والے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں۔
وہ کافر ہیں۔
ظالم ہیں۔
فاسق ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان سے پتہ چلتا ہے کہ فیصلے کے فریق غیر مسلم ہوں۔
تو پھر بھی فیصلہ مبنی بروحی قوانین کے مطابق کرنا ہوں گا۔
چاہے وہ ان کی آسمانی کتاب کے قوانین کیوں نہ ہوں۔
ان کے خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنا ہو تو یہ منصب کوئی مسلمان قبول نہیں کرسکتا۔
چہ جائے کہ مسلمانوں کے درمیان قوانین وحی سے ہٹ کر دوسرے قوانین کے ذریعے سے فیصلہ کیا جائے؟
فائدہ: ان آیات میں ہے کہ جو فیصلہ کرنے والے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں۔
وہ کافر ہیں۔
ظالم ہیں۔
فاسق ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان سے پتہ چلتا ہے کہ فیصلے کے فریق غیر مسلم ہوں۔
تو پھر بھی فیصلہ مبنی بروحی قوانین کے مطابق کرنا ہوں گا۔
چاہے وہ ان کی آسمانی کتاب کے قوانین کیوں نہ ہوں۔
ان کے خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنا ہو تو یہ منصب کوئی مسلمان قبول نہیں کرسکتا۔
چہ جائے کہ مسلمانوں کے درمیان قوانین وحی سے ہٹ کر دوسرے قوانین کے ذریعے سے فیصلہ کیا جائے؟
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3576]
Sunan Abi Dawud Hadith 3576 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي