سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ
باب: قاضی (جج) سے فیصلہ میں غلطی ہو جائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ، فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِه، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ، يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے“۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی ”تین قاضیوں“ والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3573]
جناب (عبداللہ بن بریدہ) بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنت میں ہے اور دو آگ میں۔ جنت میں جانے والا وہ ہے جس نے حق پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا، اور جس نے حق پہچانا اور پھر فیصلے میں ظلم کیا تو وہ آگ میں ہے، اور جس نے جاہل ہوتے ہوئے لوگوں کے فیصلے کیے وہ بھی آگ میں ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس موضوع میں یہ حدیث صحیح ترین ہے، یعنی ابن بریدہ کی حدیث کہ ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2315)، (تحفة الأشراف: 2009)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام 1 (1322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2315)
خلف بن خليفة صدوق اختلط في الآخر ورواه الترمذي (1322م) من طريق آخر ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2315)
خلف بن خليفة صدوق اختلط في الآخر ورواه الترمذي (1322م) من طريق آخر ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
حدیث نمبر: 3574
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ، فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ"، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حاکم (قاضی) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب قاضی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے ۱؎“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3574]
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب سوچ بچار اور اجتہاد سے کام لے اور درست نتیجے پر پہنچے تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے، اور جب کوئی خوب سوچ بچار اور اجتہاد سے کام لے اور اس سے خطا ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔“ (یزید بن عبداللہ بن الہاد نے کہا) میں نے یہ روایت ابوبکر بن حزم کو بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتصام 21(7352)، صحیح مسلم/الأقضیة 6 (1716)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2314)، (تحفة الأشراف: 15437، 10748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/198، 204) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب حاکم یا قاضی نے فیصلہ کرنے میں غور و خوض کر کے قرآن و حدیث اور اجماع سے اس کا حکم نکالا تو اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اس کے لیے دوگنا اجر و ثواب ہے، اور اگر فیصلہ غلط ہے تب بھی اس پر اس کو ایک ثواب ہے، اور کوشش کے بعد غلطی اور چوک ہونے پر وہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، اسی طرح وہ مسئلہ جو قرآن و حدیث اور اجماع امت میں صاف مذکور نہیں اگر اس کو کسی مجتہد عالم نے قرآن اور حدیث میں غور کر کے نکالا اور حکم صحیح ہوا تو وہ دوگنے اجر کا مستحق ہو گا، اور اگر مسئلہ میں غلطی ہوئی تو ایک اجر کا مستحق ہوا، لیکن شرط یہ ہے کہ اس عالم میں زیر نظر مسئلہ میں اجتہاد کی اہلیت و استعداد ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7352) صحيح مسلم (1716)
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ، ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3575]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مسلمانوں میں قضا کا منصب طلب کیا حتیٰ کہ اسے حاصل کر لیا، پھر اس کا عدل کرنا ظلم کرنے پر غالب رہا، تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب رہا، اس کے لیے جہنم ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14845) (ضعیف)» (اس کے راوی موسیٰ بن نجدہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن نجدة : مجهول (تق : 7020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
إسناده ضعيف
موسي بن نجدة : مجهول (تق : 7020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي يَحْيَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ إِلَى قَوْلِهِ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 44 ـ 47 هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً فِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» ”جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں“ اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: (۴۴، ۴۵، ۴۷) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3576]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”سورۃ المائدہ کی یہ تینوں آیات: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] «إِلَى قَوْلِهِ» ”ان کے ارشاد تک“ ﴿الْفَاسِقُونَ﴾ [سورة المائدة: 47] یہودیوں کے قبائل بالخصوص قریظہ اور بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238،271) (حسن، صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن