🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب في شراب العسل
باب: شہد کا شربت پینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3715
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْخَبَرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ تُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، وَفِي الْحَدِيثِ، قَالَتْ سَوْدَةُ: بَلْ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، قَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا سَقَتْنِي حَفْصَةُ، فَقُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ وَهِيَ صَمْغَةٌ، وَجَرَسَتْ رَعَتْ، وَالْعُرْفُطُ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ ۱؎ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط ۲؎ چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3715]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد بہت پسند تھا اور مذکورہ بالا قصے کا کچھ حصہ بیان کیا (اور کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت گراں محسوس ہوتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ناگوار بو آئے۔ اس حدیث میں ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مَغَافِيْر» (جنڈی کا رس) پیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ میں نے تو شہد پیا ہے جو مجھے حفصہ نے پلایا ہے۔ تو میں نے کہا: (شاید) شہد کی مکھی نے «عُرْفُط» کا رس چوسا ہو گا۔ ( «عُرْفُط») ایک بوٹی کا نام ہے جس پر شہد کی مکھی بیٹھتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «مَغَافِيْر» ایک طرح کی گوند سی ہوتی ہے اور «جَرَسَتْ» کے معنی ہیں اس نے چوسا ہو گا اور «عُرْفُط» ایک بوٹی ہوتی ہے جس پر شہد کی مکھی بیٹھتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأطعمة 32 (5431)، الأشربة 10 (5599)، 15 (5614)، الطب 4 (5682) (الحیل 12 (6972)، صحیح مسلم/الطلاق 3 (1474)، سنن الترمذی/الأطعمة 29 (1831)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 36 (3323) (تحفة الأشراف: 16796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/59)، دی/ الأطعمة 34 (2119) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پچھلی حدیث میں مغافیر کی بات کہنے والی عائشہ رضی اللہ عنہا یا حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، اور اس حدیث میں سودہ رضی اللہ عنہا،یہ دونوں دو الگ الگ واقعات ہیں، اس حدیث میں مذکور واقعہ پہلے کا ہے، اور پچھلی حدیث میں مذکور واقعہ بعد کا ہے جس کے بعد سورۃ التحریم والی آیت نازل ہوئی۔
۲؎: عرفط: ایک قسم کی کانٹے دار گھاس ہے جس میں بدبو ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5599) صحيح مسلم (1474)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ له تصانيف
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3715 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3715
فوائد ومسائل:

شہد اللہ تعالیٰ کی عظیم جامع نعمتوں میں سے ہے۔
اور بے شمار بیماریون کا تریاق ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
 (فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ) (النحل۔
69) اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے۔


کسی بھی حلال چیز کو اپنے لئے حرام قرار دے لینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی جائز نہ تھا۔


مذکورہ بالا اور اس قسم کے دیگر واقعات میں ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آپس میں کشاکش اس بات کی تصریح ہے کہ وہ اس دنیا کی مخلوق تھیں۔
معاشرتی زندگی کے حوالے سے ان کے جزبات فطری تھے۔
وہ معصوم عن الخطا نہ تھیں۔
مگر اللہ عزوجل نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل ب بستگی اور اشاعت دین کےلئے منتخب فرمایا لیا تھا۔
ان میں سے ہر ایک کی یہ پُرزور تمنا اور انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ جس طرح بھی بن پائے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت ومحبت اور التفات کا زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کرلے۔
اور یہ عین ایمان بھی ہے، اس صورت حال میں اس انداز کے معمولی جھول نظرانداز کردینے کے لائق تھے۔
اور ہیں۔
جہاں ضروری سمجھا گیا، تنبیہ بھی کی گئی ان ازواج مطہرات کا جو قلبی وقالبی ربط وضبط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔
اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرکے فرمایا (يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ) (الأحزاب۔
32) اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کی بیویوں تم عام عورتوں کیطرح نہیں ہو۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا۔
(لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ) (الأحزاب:52) اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کے لئے ان بیویوں کے بعد اور کوئی عورت حلال نہیں۔
اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بدلے کوئی او رلا سکتے ہیں۔
خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی پسند کیوں نہ آئے۔
ہاں لونڈیاں جائز ہیں۔
انہی فضائل کی بنا پر یہ امت کی مایئں قرار دی گیئں ہیں۔
  (رضی اللہ تعالیٰ عنھن و أرضاھن)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3715]

Sunan Abi Dawud Hadith 3715 in Urdu