سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب في أكل لحوم الخيل
باب: گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3790
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ"، زَادَ حَيْوَةُ: وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا بَأْسَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مَنْسُوخٌ، قَدْ أَكَلَ لُحُومَ الْخَيْلِ جَمَاعَةٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وسُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، وَعَلْقَمَةُ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْبَحُهَا.
خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3790]
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔“ حیوہ بن شریح نے مزید کہا: ”درندوں میں سے ہر ناب دار (کچلی والے) جانور سے بھی منع فرمایا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے (یعنی گھوڑا مکروہ ہے)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”گھوڑے کے گوشت میں کوئی حرج نہیں، مگر اس پر عمل نہیں ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور ”یہ (روایت جس میں گھوڑے کے گوشت کھانے کی ممانعت ہے) منسوخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا ہے۔ ان میں سیدنا ابن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابی بکر، سوید بن غفلہ اور علقمہ رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قریشی لوگ گھوڑا ذبح کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الصید 30 (4336)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 14 (3198)، (تحفة الأشراف: 3505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89،90) (ضعیف)» (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، اور یہ جابر کی صحیح روایت کے خلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4336،4337) ابن ماجه (3198)
صالح بن يحيي بن المقدام : لين وأبوه مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
إسناده ضعيف
نسائي (4336،4337) ابن ماجه (3198)
صالح بن يحيي بن المقدام : لين وأبوه مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4336
| لا يحل أكل لحوم الخيل والبغال والحمير |
سنن النسائى الصغرى |
4337
| نهى عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير وكل ذي ناب من السباع |
سنن أبي داود |
3790
| عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير |
سنن ابن ماجه |
3198
| عن لحوم الخيل والبغال والحمير |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3790 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3790
فوائد ومسائل:
توضیح: گھوڑے کا گوشت حلال اور طیب ہے۔
ہمارے ہاں اس کا رواج نہ ہونا الگ بات ہے۔
دیکھیے۔
(صحیح البخاري، الذبائع والصید، باب لحوم الخیل، حدیث:5519۔
و باب النحر و ذبح حدیث: 5511۔
5510۔
و صحیح مسلم، الصید و الذبائح، باب إباحة أکل لحم الخیل، حدیث: 1942۔
1941) اور یہ آخری روایت (خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ضعیف ہے۔
اسے امام احمد بخاری۔
موسیٰ بن ہارون دراقطنی خطابی ابن عبد البر اور عبد الحق وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
علامہ البانی نے بھی اسے ضعیف سنن ابی دائود میں درج کیا ہے۔
بعض اہل علم سورہ نحل کی آیت مبارکہ (وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً (قرآن ۚ) (النحل۔
8) اللہ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا۔
کہ تم ان پرسواری کرو۔
اور یہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہیں۔
سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ یہ جانور کھانے کےلئے نہیں ہیں۔
(لہذا حرام ہیں۔
) ان حضرات کا استدلال صحیح نہیں۔
کیونکہ آیت کریمہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ یہ جانورمحض سواری اور زینت ہی کےلئے ہیں۔
دیگر فوائد حاصل کرنا ناجائز ہیں۔
چونکہ مذکورہ فوائد اہم تر تھے، اس لئے قرآن کریم نے ان کا ذکرفرمایا ہے۔
جیسے کہ سورہ مائدہ میں ہے (قرآن) (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ) (المائدة:3) تم پرمردار خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا گیا ہے۔
اس میں خنزیر کے صرف گوشت کا ذکر ہوا ہے۔
کیونکہ اہم شے یہی ہے۔
حالانکہ دیگر اشیاء ہڈی اور دوسرے اجزاء کا بھی یہی حکم ہے اور ان کے حرام ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔
اس مذکورہ سیاق میں گھوڑے پر بوجھ لادنے کا ذکر بھی نہیں ہے۔
تو کیا گھوڑے پر بوجھ لادنا جائز سمجھ لیا جائے؟ یہ بات عقل ونقل کے سراسر خلاف ہوگی۔
اس طرح سے اس کے حرام ہونے کا استدلال بھی قطعا ً درست نہیں۔
شروع آیات میں ہے۔
(وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ) (النحل:5) اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں۔
اور بھی بہت سے منافع ہیں۔
اور کئی تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔
تو یہاں اہم فوائد کا ذکر کردیا گیا ہے۔
اور باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(معالم السنن وعون المعبود)
توضیح: گھوڑے کا گوشت حلال اور طیب ہے۔
ہمارے ہاں اس کا رواج نہ ہونا الگ بات ہے۔
دیکھیے۔
(صحیح البخاري، الذبائع والصید، باب لحوم الخیل، حدیث:5519۔
و باب النحر و ذبح حدیث: 5511۔
5510۔
و صحیح مسلم، الصید و الذبائح، باب إباحة أکل لحم الخیل، حدیث: 1942۔
1941) اور یہ آخری روایت (خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ضعیف ہے۔
اسے امام احمد بخاری۔
موسیٰ بن ہارون دراقطنی خطابی ابن عبد البر اور عبد الحق وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
علامہ البانی نے بھی اسے ضعیف سنن ابی دائود میں درج کیا ہے۔
بعض اہل علم سورہ نحل کی آیت مبارکہ (وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً (قرآن ۚ) (النحل۔
8) اللہ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا۔
کہ تم ان پرسواری کرو۔
اور یہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہیں۔
سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ یہ جانور کھانے کےلئے نہیں ہیں۔
(لہذا حرام ہیں۔
) ان حضرات کا استدلال صحیح نہیں۔
کیونکہ آیت کریمہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ یہ جانورمحض سواری اور زینت ہی کےلئے ہیں۔
دیگر فوائد حاصل کرنا ناجائز ہیں۔
چونکہ مذکورہ فوائد اہم تر تھے، اس لئے قرآن کریم نے ان کا ذکرفرمایا ہے۔
جیسے کہ سورہ مائدہ میں ہے (قرآن) (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ) (المائدة:3) تم پرمردار خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا گیا ہے۔
اس میں خنزیر کے صرف گوشت کا ذکر ہوا ہے۔
کیونکہ اہم شے یہی ہے۔
حالانکہ دیگر اشیاء ہڈی اور دوسرے اجزاء کا بھی یہی حکم ہے اور ان کے حرام ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔
اس مذکورہ سیاق میں گھوڑے پر بوجھ لادنے کا ذکر بھی نہیں ہے۔
تو کیا گھوڑے پر بوجھ لادنا جائز سمجھ لیا جائے؟ یہ بات عقل ونقل کے سراسر خلاف ہوگی۔
اس طرح سے اس کے حرام ہونے کا استدلال بھی قطعا ً درست نہیں۔
شروع آیات میں ہے۔
(وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ) (النحل:5) اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں۔
اور بھی بہت سے منافع ہیں۔
اور کئی تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔
تو یہاں اہم فوائد کا ذکر کردیا گیا ہے۔
اور باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(معالم السنن وعون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3790]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4336
گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حلال نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4336]
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حلال نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4336]
اردو حاشہ:
علامہ سندھی فرماتے ہیں کہ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے سنن کبریٰ میں فرمایا ہے: اس سے پہلے آنے والی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تو یہ منسوخ ہے کیونکہ جواز کی روایت میں اجازت دینے کے الفاظ اس کے منسوخ ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ دیکھیے: (التعلیقات السلفیة على سنن النسائي: 4/ 603) یہ حدیث کسی بھی لحاظ سے جواز کی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
علامہ سندھی فرماتے ہیں کہ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے سنن کبریٰ میں فرمایا ہے: اس سے پہلے آنے والی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تو یہ منسوخ ہے کیونکہ جواز کی روایت میں اجازت دینے کے الفاظ اس کے منسوخ ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ دیکھیے: (التعلیقات السلفیة على سنن النسائي: 4/ 603) یہ حدیث کسی بھی لحاظ سے جواز کی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4336]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4337
گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4337]
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4337]
اردو حاشہ:
یہ روایت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ان کے نزدیک گھوڑا جہاد میں استعمال ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اس لیے اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا مگر اس حدیث میں گھوڑے کو خچر، گدھے اور درندوں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ گویا یہ پلید ہے۔ دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ حدیث کی حیثیت پر سابقہ حدیث میں بھی بحث ہو چکی ہے۔
یہ روایت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ان کے نزدیک گھوڑا جہاد میں استعمال ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اس لیے اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا مگر اس حدیث میں گھوڑے کو خچر، گدھے اور درندوں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ گویا یہ پلید ہے۔ دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ حدیث کی حیثیت پر سابقہ حدیث میں بھی بحث ہو چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4337]
Sunan Abi Dawud Hadith 3790 in Urdu
المقدام بن معدي كرب الكندي ← خالد بن الوليد المخزومي