🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب النهى عن أكل السباع
باب: درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3806
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ كَرِبَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَتَتْ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ، وَخَيْلُهَا، وَبِغَالُهَا، وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3806]
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھا۔ چنانچہ یہودی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آئے اور شکایت کی کہ لوگ (مسلمان) ان کے باڑوں پر چڑھ دوڑے ہیں (یعنی مال مویشی لوٹ لیے ہیں)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! معاہد (ذمی) لوگوں کا مال حلال نہیں سوائے اس کے کہ شرعی اور اصولی حق ہو، تم پر پالتو گدھے، گھوڑے، خچر، کچلیوں والے درندے اور پنجے دار پرندے حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: 3790، (تحفة الأشراف: 3508)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89) (ضعیف منکر)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، نیز خالد رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر تک مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے تو اس میں شریک کیسے ہوئے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن يحيي بن مقدام :لين،وأبوه مستور كما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خالد بن الوليد المخزومي، أبو سفيان، أبو سليمانصحابي
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمة
Newالمقدام بن معدي كرب الكندي ← خالد بن الوليد المخزومي
صحابي
👤←👥صالح بن يحيى الكندي
Newصالح بن يحيى الكندي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
مقبول
👤←👥سليمان بن سليم الكناني، أبو سلمة
Newسليمان بن سليم الكناني ← صالح بن يحيى الكندي
ثقة
👤←👥محمد بن حرب الخولاني، أبو عبد الله
Newمحمد بن حرب الخولاني ← سليمان بن سليم الكناني
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← محمد بن حرب الخولاني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3806
كل ذي ناب من السباع كل ذي مخلب من الطير
سنن أبي داود
3804
لا يحل ذو ناب من السباع لا الحمار الأهلي لا اللقطة من مال معاهد إلا أن يستغني عنها أيما رجل ضاف قوما فلم يقروه فإن له أن يعقبهم بمثل قراه
سنن ابن ماجه
3193
حرم أشياء حتى ذكر الحمر الإنسية
بلوغ المرام
804
ألا لا يحل ذو ناب من السباع ولا الحمار الأهلي ولا اللقطة من مال معاهد إلا أن يستغني عنها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3806 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3806
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم گھوڑے کی بابت دیکھئے: (احادیث 3788۔
اور 3790)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3806]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 804
لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن لو! درندوں میں سے کچلیوں والا جانور حلال نہیں اور نہ ہی گھریلو گدھا اور ذمی کی گمشدہ گری پڑی چیز اٹھانا بھی حلال نہیں ہے، الایہ کہ مالک کے نزدیک اس کی خاص اہمیت و ضرورت نہ ہو۔ (ابوداؤد) «بلوغ المرام/حدیث: 804»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب ما جاء في أكل السباع، حديث:3804.»
تشریح:
معاہد چونکہ اسلامی سلطنت میں باقاعدہ اجازت لے کر آتا ہے اور پر امن رہتا ہے‘ اس لیے اس کے مال و جان کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر ہوتی ہے‘ اسی لیے اس کے اور مسلمان کے لقطہ میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا‘ البتہ اگر عرف عام میں کوئی معمولی چیز ہو تو اس کی اجازت ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت مقدام رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ مقدام کے میم کے نیچے کسرہ ہے۔
مقدام بن معدیکرب بن عمرو الِکندی (کرب کے کاف پر فتحہ اور را کے نیچے کسرہ ہے اور اضافت کی وجہ سے با کے نیچے کسرہ مع تنوین جائز ہے اور مبنی ہونے کی بنا پر اس پر فتحہ بھی جائز ہے۔
) ان کی کنیت ابوکریمہ یا ابویحییٰ تھی۔
مشہور صحابی ہیں۔
شام میں فروکش ہوئے‘ اس لیے ان کی روایت کردہ احادیث کے راوی بھی شامی ہیں۔
صحیح قول کے مطابق ۴۷ہجری میں وفات پائی۔
اس وقت ان کی عمر ۹۱ برس تھی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 804]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3804
درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3804]
فوائد ومسائل:
فائدہ: جب کسی کافرکا گرا پڑا مال اٹھانا جائز نہیں تو مسلمان کا مال اٹھانا بالاولیٰ منع ہوا۔
ہاں اگر معمولی ہو کہ اس کے مالک کو اس کی طمع نہ ہو تو الگ بات ہے۔
اسی طرح اعلان کرنے کی نیت سے بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3804]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3193
نیل گائے کے گوشت کا حکم۔
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے (ان حرام چیزوں میں) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3193]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دوسری ممنوعہ اشیاء ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، اسی طرح گدھا بھی حرام ہے جیسے کہ حدیث: 3196 میں اسے ناپاک’‘ قراردیا گیاہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3193]

Sunan Abi Dawud Hadith 3806 in Urdu