🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ
باب: نظر بد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3880
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ الْمَعِينُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نظر بد لگانے والے کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے پھر جسے نظر لگی ہوتی اس پانی سے غسل کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3880]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جس شخص کی نظر لگتی اسے حکم دیا جاتا تھا کہ وضو کر کے (وضو کا پانی) دے، پھر اس سے بیمار کو (جسے نظر لگی ہو) غسل کرایا جاتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15965) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وإبراهيم مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
11498

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم النخعي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3880
يؤمر العائن فيتوضأ ثم يغتسل منه المعين
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3880 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3880
فوائد ومسائل:
اگر انسان کسی دوسرے کے لیئے نیک خواہشات کا اظہار کرے تو نیک خواہش کا مُثبت اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔
اسی طرح بری خواہش حسد وغیرہ کے منفی اثرات بھی شدت سے دوسرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
جدید نفسیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ایک انسان اپنے ارادے، خواہش اور توجہ کے ذریعےسے دوسرے پر بہت جلد اثرانداز ہو سکتا ہے۔
نظر لگنے کی صورت بھی یہی ہے کہ کسی کی خوبی دیکھ کر بعض نفوس میں جذبہ ِ حسد پیدا ہو جاتا ہے، اگر وہ شدید ہو اور حسد محسوس کرنے والا سخت اور قوی ارادے کا رجحان رکھتا ہوتو اس حسد کی وجہ سے دوسرے پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عموماََ چونکہ دوسرے کی خوبیاں آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں اور دیکھتے ہی فوراََ حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اسی لیئے اس کو اکثر زبانوں میں نظر لگنے یا اس کے ہم معنی الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
حافظ ابن القیمؒ کی کتاب الطب النبوی کے انگریزی ترجمے کے ایڈیٹر نو مسلم سکالر عبدلرحمن عبداللہ (سابقہ ریمنڈ جے مینڈیرولا فورڈ ہیم یونیورسٹی، یو- ایس -اے) نے اس حوالے سے ایک دلچسپ نوٹ لکھا ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کی برائی کی قوت مختلف چیزوں یا لولوگوں کو خفیہ طور پر اپنا آلہ کار بنا کر ان کے ذریعے سے انسانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
مغربی معاشرے میں اس کا مظاہرہ سکول کے کمسن بچوں کی طرف سے اپنے ہم جماعتوں کے اجتماعی قتل ایک انسان کی طرف سے بغیر دُشمنی کے یکے بعد دیگرے بیسیو قتل، بچوں پر مجرمانہ تشدد اور ایسی فلموں کی صورت میں سامنے آتا ہے جس میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیئےانسانوں کو واقعتاَ قتل کر کے فلمیں (Snuff Movies) بنائی جاتی ہیں۔
اگر یہ نہ مانا جائے کہ برائی کی قوت انسان کو اپنا آلہ کار بنا کر یہ کام کراتی ہے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ سب کچھ انسان کی اپنی فطرت میں شامل ہے۔
مسلمان کو یہی بتایا گیا ہے کہ برائی کی ان قوتوں سے اللہ کی پناہ حاصل کریں۔
(Medicine of Prophet by Ibn- Qayyim Al-Jauziyah, foot note 157) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غرض سے بہت سی دُعائیں بتائی اور مانگی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی حکم ہے کہ جس کسی کو نظر لگ جا تی ہے وہ اچھی چیز یا انسان کو دیکھتے ہی اس کے لیئے برکت کی دُعا کرے۔
اگر کسی شخص پر نظرِ بد کے اثرات شدید ہوں تو اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ کس شخص کی نظر لگی ہو وہ وضو کرے اور تہہ بند وغیرہ کا وہ حصہ جو کمر کے ساتھ لگا ہوتا ہے، اسے دھوئے اور یہ مستعمل پانی متاثرہ شخص پر پھینکا جائے۔
ابو دائود کی یہ حدیث اگرچہ سندََ ضعیف ہے، لیکن اس کی مؤید صحیح روایتیں موجود ہیں جس طرح کے موطا کی روایت جس کا اُپر حوالہ دیا گیا ہے۔
یہ ایک روحانی علاج ہے۔
یہ کیسے کامیاب ہوتا ہے، اس کا جاننا ضرہری نہیں، لیکن اتنی بات سمجھی جا سکتی ہے کہ وضو کے ذریعے سے انسان کو عمدَ یا خطاَ سرزد ہونے والے منفی امور کے اثرات سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔
ان منفی امور کے نتائج بد سے پناہ حاصل کرنے کا ایک طریق ہے کہ جس کی نظر لگ گئی ہے، اس نے جب خود وضو کے ذریعے سے ان امور سے پناہ حاصل کی اور وضو کے پانی نے انکا ازالہ کردیا تو جس دوسرے انسان پر اس کے منفی جذبے کا اثر ہوا اگر وہ اپنے اُپر یہی پانی گرا لے تو یہ اثر بدرجہ اولیٰ زائل ہو جائے گا۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3880]

Sunan Abi Dawud Hadith 3880 in Urdu