پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الطيرة
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3914
قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: عَنْ قَوْلِهِ: لَا صَفَرَ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ يُحِلُّونَهُ عَامًا، وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ،
ابوداؤد کہتے ہیں حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے (محرم کا مہینہ قرار دے کر) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» (اب ایسا) نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3914]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں حارث بن مسکین کے سامنے حدیث پڑھی گئی، اشہب نے تمہیں بتلایا کہ امام مالک رحمہ اللہ سے «لَا صَفَرَ» کا مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”دورِ جاہلیت میں لوگ ماہِ صفر کو ایک سال حلال قرار دے لیتے تھے اور ایک سال حرام، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفر میں تبدیلی صحیح نہیں ہے۔“” [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Sunan Abi Dawud Hadith 3914 in Urdu