سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ
باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3935
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ"، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.
قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہو گی ۱؎“، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3935]
جناب قتادہ اپنی سند سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسے غلام کو آزاد کر دیا ہو جو کہ اس کے اور دوسرے کے مابین مشترک ہو، تو اس (آزاد کرنے والے) پر لازم ہے کہ اس کو خلاصی دلائے۔“ اور یہ ابن سوید کے لفظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بھی اسی کو ادا کرنی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1502)
وانظر الحديث السابق (3934)
وانظر الحديث السابق (3934)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 3935 in Urdu
شعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي