🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب النهى عن التعري
باب: ننگا ہونا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4014
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ جَرْهَدٌ هَذَا مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ، فَقَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ".
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے (اس کو چھپانا چاہیئے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الصلاة 12 (371 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الاستئذان 40 (2795)، (تحفة الأشراف: 3206)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 22 (2692) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3112)
زرعة بن عبد الرحمن بن جرھد: ذكره ابن حبان في الثقات وحسنه الترمذي وصحح له الحاكم والذھبي وللحديث شواھد كثيرة عند الترمذي (2797) وغيره

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جرهد بن رزاح الأسلمي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن جرهد الأسلمي
Newعبد الله بن جرهد الأسلمي ← جرهد بن رزاح الأسلمي
مقبول
👤←👥زرعة بن عبد الرحمن الأسلمي
Newزرعة بن عبد الرحمن الأسلمي ← عبد الله بن جرهد الأسلمي
ثقة
👤←👥سالم بن أبي أمية القرشي، أبو النضر
Newسالم بن أبي أمية القرشي ← زرعة بن عبد الرحمن الأسلمي
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← سالم بن أبي أمية القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2795
الفخذ عورة
جامع الترمذي
2798
الفخذ عورة
جامع الترمذي
2796
غط فخذك فإنها من العورة
سنن أبي داود
4014
الفخذ عورة
مسندالحميدي
880
غط فخذك يا جرهد، فإن الفخذ عورة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4014 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن ابی داود4014
مرد کا ستر ناف اور گھٹنے کا درمیانی حصہ
ناف اور گھٹنے کا درمیانی حصہ ہے جیسا کہ دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حدیث نبوی ہے کہ «مابين السرة والركبة عورة» ناف اور گھٹنے کے درمیان جو کچھ ہے ستر ہے۔ [حسن: إرواء الغليل 271، 247]
➋ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الفخد عورة» ران ستر ہے۔
[صحيح: صحيح أبو داود 3389، كتاب الحمام: النهى عن التعرى، أبو داود 4104، ترمذي 2798، أحمد 478/3، بخاري تعليقا 478/1، شيخ محمد صحبي حلاق نے اسے صحيح كها هے۔ التعليق على السيل الجرار 363/1]
➌ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ولا تبرز فخذك ولا تنظر إلى فخذ حبى ولا ميت»
اپنی ران کو ظاہر مت کرو اور کسی کی ران مت دیکھو خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ہو۔
[ضعيف: ضعيف أبو داود 867، ضعيف الجامع 6187، إرواء الغليل 269، أبو داود 4015، أيضا، ابن ماجة 1460، حاكم 180/4، بزار 694]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معمر رضی اللہ عنہ کو رانیں ننگی کیے ہوئے دیکھا تو فرمایا: «با معمر غط فخذيك فإن الفخذين عورة» اے معمر! اپنی رانوں کو ڈھانپ لو کیونکہ رانیں ستر میں شامل ہیں۔
[ضعيف: المشكاة 3114، أحمد 290/5، بخاري تعليقا 478/1، حاكم 180/4، شيخ محمد صجي حلاق نے اسے حسن كہا ہے۔ التعليق على السيل الجرار 362/1]
ستر کے مسئلے میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ، ابوحنیفہؒ) ران ستر میں شامل ہے۔
(مالکؒ، احمدؒ، اہل ظاہرؒ) صرف قبل اور دبر ہی ستر ہے۔ [نيل الأوطار 532/1]
(راجح) ران ستر میں شامل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ «الفخذ عورة» ران ستر ہے۔
(ابن حجرؒ) حديث «لا تبرز فخذك» کے متعلق رقمطراز ہیں کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ [تلخيص الحبير 504/1]
(نوریؒ) اکثر علماء کا یہی موقف ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ [المجموع 175/3]
(شوکانیؒ) حق بات یہی ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ [نيل الأوطار 532/1]
(البانیؒ) ران ستر ہے۔ [تمام المنة ص/ 160]
جن احادیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران ظاہر کی مثلا خیبر کے دن، [بخاري 371، أحمد 102/3] اور اسی طرح حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے اپنے گھر میں لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے ران کو ڈھانپ لیا۔ [حسن: إرواء الغليل 298/1]
وہ تمام احادیث گذشتہ مسئلے کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ اصول میں یہ بات مسلم ہے کہ «أن القول أرجح من الفعل» بلاشبہ قول فعل سے زیادہ راجح ہے۔ اور یہ فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔ [نيل الأوطار 532/1-534، تمام المنة ص/ 159]
ناف اور گھٹنے خود ستر میں شامل نہیں
کیونکہ جن احادیث سے ان کے ستر ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا غیر واضح ہیں البتہ یہ حدیث ان کے ستر نہ ہونے کی دلیل ہے۔ «ما بين السرة والركبة عورة» ناف اور گھٹنے کے درمیان جو کچھ ہے ستر ہے۔ [إرواء الغليل 247]
جس روایت میں ہے کہ «الركبة من العورة» گھٹنا ستر کا حصہ ہے۔ وہ ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں نضر بن منصور فزاری کوئی راوی کمزور ہے۔ امام بخاریؒ نے اسے منکر الحدیث اور امام نسائیؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [ميزان الاعتدال 264/4]
دیگر مسائل کی طرح فقہاء نے اس مسئلے میں بھی اختلاف کیا ہے۔
[الأم 181/1، حلية العلماء 62/2، روضة الطالبين 389/1، الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف 4511]
(راجح) گھٹنے ستر میں شامل نہیں ہیں۔
(شوکانیؒ) یہی راجح ہے۔ [نيل الأوطار 536/1]
(البانیؒ) گھٹنوں کے ستر ہونے (کے دلائل) میں کچھ بھی صحیح نہیں ہے۔ [تمام المنة ص/ 160]
لونڈی کا ستر ابوداود حدیث نمبر 4018 فوائد دیکھیں۔
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 346]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4014
فوائد ومسائل:
مرد کی ران ستر میں شامل ہے، اس لیے چاہیے کہ کھیل وغیرہ میں لمبا جانگیا پہنا جائے۔
اسی طرح جسم پر فٹ لباس یا جس سے جسم جھلکتا ہو بھی جائز نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4014]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:880
880- سیدنا جرہد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت مسجد میں موجود تھا میں نے اوپر چادرلی ہوئی تھی اور میرے زانوں سے چادر ہٹی ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جرہد! تم اپنے زانوں کو ڈھانپ لو! کیونکہ زانو ستر کا حصہ ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:880]
فائدہ:
مرد کی ستر میں ران شامل ہے اسے ڈھانپا جائے گا۔ البتہ اسے ڈھانپنا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے، جیسےکہ صیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ اپنے گھر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں ران ننگی کر کے بیٹھے رہے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی آمد پر اسے ڈھانپ لیا۔ لہٰذا احادیث متبع سے پتہ چلتا ہے کہ شرمگاہ دو قسم کی ہے ایک ڈھانپنا فرض ہے۔ جیسے دبر قبل جبکہ دوسری مستحب ہے جیسے رانیں۔ (تنقیح الرواة: 3 / 6)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 879]