سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب [ ما يقول إذا لبس ثوبا جديدا ]
باب: نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 4022
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالثَّقَفِيُّ سَمَاعُهُمَا وَاحِدٌ.
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4022]
مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن دینار نے بیان کیا، بواسطہ جریری کے، انہوں نے اپنی سند سے مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”عبدالوہاب ثقفی نے اپنی سند میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔“ اور حماد بن سلمہ نے کہا: «عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”جریری سے، انہوں نے ابوالعلاء سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”حماد بن سلمہ اور (عبدالوہاب ثقفی) ثقفی دونوں کا سماع ایک جیسا ہے (دونوں مرسل بیان کرتے ہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4020)، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4020)
انظر الحديث السابق (4020)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود | ثقة | |
👤←👥محمد بن دينار الأزدي، أبو بكر محمد بن دينار الأزدي ← سعيد بن إياس الجريري | مقبول | |
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← محمد بن دينار الأزدي | ثقة مأمون |
Sunan Abi Dawud Hadith 4022 in Urdu
محمد بن دينار الأزدي ← سعيد بن إياس الجريري