یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في صلة الشعر
باب: دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيَكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" لَا بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4171]
جناب سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ ”دھاگوں سے بنی چوٹی (موباف) میں کوئی حرج نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”گویا سعید رحمہ اللہ کی رائے یہ تھی کہ بالخصوص عورتوں کے بال (اور بال لگا کر) جوڑنا ہی منع ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور ایسے ہی امام احمد رحمہ اللہ کہتے تھے کہ دھاگوں کی چوٹی کا کوئی حرج نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18679) (ضعیف منکر)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
شريك عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله | ثقة ثبت | |
👤←👥سالم بن عجلان الأفطس، أبو محمد سالم بن عجلان الأفطس ← سعيد بن جبير الأسدي | ثقة | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← سالم بن عجلان الأفطس | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥محمد بن جعفر الوركاني، أبو عمران محمد بن جعفر الوركاني ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4171 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4171
فوائد ومسائل:
یہ قول سندََا ضعیف ہے، تاہم موباف (دھاگوں) کی بنی چو ٹی) کے استعمال میں کو ئی حرج معلوم نہیں ہوتا، امام احمد ؒ کے قول سے بھی واضح ہے۔
واللہ اعلم
یہ قول سندََا ضعیف ہے، تاہم موباف (دھاگوں) کی بنی چو ٹی) کے استعمال میں کو ئی حرج معلوم نہیں ہوتا، امام احمد ؒ کے قول سے بھی واضح ہے۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4171]
Sunan Abi Dawud Hadith 4171 in Urdu
سالم بن عجلان الأفطس ← سعيد بن جبير الأسدي