سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء في الفرق
باب: بال میں مانگ نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4189
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَفْرُقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَعْتُ الْفَرْقَ مِنْ يَافُوخِهِ وَأُرْسِلُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگ نکالنی چاہتی تو سر کے بیچ سے نکالتی، اور پیشانی کے بالوں کو دونوں آنکھوں کے بیچ کی سیدھ سے آدھا ایک طرف اور آدھا دوسری طرف لٹکا دیا کرتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4189]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں مانگ نکالنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بیچوں بیچ سے نکالتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے لٹکاتی (یعنی پھر انہیں آدھو آدھ کر دیتی)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90، 275) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4447)
مشكوة المصابيح (4447)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4189
| صدعت الفرق من يافوخه وأرسل ناصيته بين عينيه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4189 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4189
فوائد ومسائل:
ٹیڑھی مانگ نکالنا اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اور مشرکین اور کفار کی موافقت اور مشابہت ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس بدعادت سے باز رہنا چاہیئے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا تو وہ اُنہی میں سے ہو گا۔
(سنن أبی داود، اللباس، حدیث:4031)
ٹیڑھی مانگ نکالنا اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اور مشرکین اور کفار کی موافقت اور مشابہت ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس بدعادت سے باز رہنا چاہیئے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا تو وہ اُنہی میں سے ہو گا۔
(سنن أبی داود، اللباس، حدیث:4031)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4189]
Sunan Abi Dawud Hadith 4189 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق