🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کا قتل بڑا گناہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَوْ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ:" لَمَّا نَزَلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 قَالَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ: قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ سورة الفرقان آية 70 فَهَذِهِ لِأُولَئِكَ، قَالَ: وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 الْآيَةَ، قَالَ الرَّجُلُ: إِذَا عَرَفَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ لَا تَوْبَةَ لَهُ، فَذَكَرْتُ هَذَا لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: إِلَّا مَنْ نَدِمَ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو آپ نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» نازل ہوئی تو اہل مکہ کے مشرک کہنے لگے: ہم نے بہت سی ایسی جانیں قتل کی ہیں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے اور ہم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے، اور برے کام کئے ہیں تو اللہ نے «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات» ”سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے“ (الفرقان: ۷۰) نازل فرمائی تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا: اور سورۃ نساء کی آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» الآیۃ، ایسے وقت کے لیے ہے جب آدمی مسلمان ہو جائے اور شرعی احکام کو جان لے پھر جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو ایسے شخص کی سزا جہنم ہو گی، اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس کے اس قول کو مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا سوائے اس شخص کے جو شرمندہ ہو (یعنی دل سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4273]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] نازل ہوئی تو مکہ کے مشرکین نے کہا: ”(اب ہمارے ایمان لانے کا کیا فائدہ) ہم نے ناحق جانیں قتل کی ہیں، اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے اور بدکاریوں کا ارتکاب بھی کیا ہے۔“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل کیا: ﴿إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ﴾ [سورة الفرقان: 70] ”یہ آیتیں انہی مشرکین کے حق میں ہیں۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”لیکن سورۃ النساء کی آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ایسے (مسلمان) شخص کے لیے ہے جو اسلامی احکام جانتا ہے پھر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تو اس کی سزا جہنم ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔“ سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی) اس بات کا مجاہد رحمہ اللہ سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ”مگر جو شخص نادم ہو جائے۔ (تو اس کی توبہ قبول ہو گی۔ ان شاء اللہ)“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/مناقب الأنصار 29 (3855)، التفسیر 16 (4590)، تفسیر سورة الفرقان 2 (4764)، صحیح مسلم/التفسیر ح 16 (3023)، سنن النسائی/المحاربة 2 (4007)، (تحفة الأشراف: 5624) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3855) صحيح مسلم (3023)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة ثبت
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥يوسف بن موسى الرازي، أبو يعقوب
Newيوسف بن موسى الرازي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
صدوق حسن الحديث
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4273 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4273
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا پہلی حدیث میں وارد آیت نساء کے معنی ہیں اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔
۔
۔
۔
۔
۔
اور سورۃ فرقان کی آیت67 کا ترجمہ ہے: اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل اللہ نے حرام کر دیا ہو مگر حق کے ساتھ اور آیر 70 کے معنی ہیں: مگر جو توبہ کر لے ایمان لائے اور عملِ صالح اختیار کرے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالٰی نیکیوں سے بدل دیتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4273]

Sunan Abi Dawud Hadith 4273 in Urdu