🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب في تعظيم قتل المؤمن
باب: مومن کا قتل بڑا گناہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4276
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ فِي قَوْلِهِ:" وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: هِيَ جَزَاؤُهُ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنْهُ فَعَلَ".
ابومجلز سے اللہ تعالیٰ کے قول «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» کے متعلق مروی ہے کہ ایسے شخص کا بدلہ تو یہی ہے لیکن اگر اللہ اسے معاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4276]
جناب ابومجلز سے مروی ہے کہ ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] قاتلِ عمد کی سزا یہی ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے۔ اور اگر اللہ اسے معاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19527) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان التيمي مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥لاحق بن حميد السدوسي، أبو مجلزثقة
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← لاحق بن حميد السدوسي
ثقة
👤←👥عبد ربه بن نافع الكناني، أبو شهاب
Newعبد ربه بن نافع الكناني ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← عبد ربه بن نافع الكناني
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4276 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4276
فوائد ومسائل:
قاتل عمد کے بارے میں وارد شدہ آیات و احادیث کی روشنی میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ اور کئی علماء کہتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول نہیں اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
تاہم سورۃ فرقان اور دیگر آیات توبہ عام ہیں اس لیئے یہ آدمی بھی اگر اخلاص سے توبہ کرے تو قبو لیت کی امید ہے اور پہلی بات تب ہے جب وہ بغیر توبہ کیےمر جائے اور اللہ عزوجل نے معاف نہ فرمایا تو۔
اور خلود سے مراد یہاں لمبی مدت ہے ہمیشہ ہمیشہ نہیں۔
کیونکہ یہ سزا صرف مشرکین اور کافروں کے لیئے مخصوس ہے۔
ارشادِ باری تعا لٰی ہے اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں فرماتا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ معاف کرے گا جس کے لیئے چاہے گا۔
اور صحیح حدیث ہے کہ ایک اسرائیلی نے سو آدمی قتل کر دیئے۔
تو ایک عالم نے کہا: کون ہے جو تمھارے اور تمھاری توبہ کے درمیان حائل ہو سکے۔
۔
۔
الخ (صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3470، وصحیح مسلم)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4276]

Sunan Abi Dawud Hadith 4276 in Urdu