سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما يرجى في القتل
باب: فتنہ میں قتل ہونے پر مغفرت کی امید رکھے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4277
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ فِتْنَةً فَعَظَّمَ أَمْرَهَا فَقُلْنَا، أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَئِنْ أَدْرَكَتْنَا هَذِهِ لَتُهْلِكَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلَّا إِنَّ بِحَسْبِكُمُ الْقَتْلُ" قَالَ: سَعِيدٌ فَرَأَيْتُ إِخْوَانِي قُتِلُوا.
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک فتنہ اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا تو ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس فتنہ نے ہم کو پا لیا تو ہم کو تو تباہ کر ڈالے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، بس تمہارا قتل ہو جانا ہی کافی ہو گا“۔ سعید کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائیوں کو (جمل و صفین میں) قتل ہوتے دیکھ لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4277]
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کے ہونے کا ذکر فرمایا اور اس کی ہیبت ناکی بیان کی۔ ہم نے عرض کیا یا لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر یہ ہمیں پہنچ گیا تو ہلاک کر ڈالے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں۔ اس میں تمہیں قتل ہو جانا ہی کافی ہو گا۔“ سعید کہتے ہیں: ”پھر میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا کہ قتل ہو گئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4469) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4277
| كلا إن بحسبكم القتل |
Sunan Abi Dawud Hadith 4277 in Urdu
هلال بن يساف الأشجعي ← سعيد بن زيد القرشي