پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب القطع في الخلسة والخيانة
باب: کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4393
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، زَادَ وَلَا عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ لَمْ يَسْمَعْهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا سَمِعَهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مَنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ رَوَاهُمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے ”اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4393]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا اور مزید کہا: ”اچکے کا ہاتھ نہیں کٹتا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ دونوں حدیثیں ابن جریج نے ابوزبیر سے نہیں سنی ہیں۔ اور مجھے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ احادیث ابن جریج نے یاسین الزیات سے سنی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ احادیث مغیرہ بن مسلم نے بھی بواسطہ ابوزبیر، جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4391)، (تحفة الأشراف: 2800) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4392)
انظر الحديث السابق (4392)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4393 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4393
فوائد ومسائل:
لیٹرا وہ ہوتا ہے جو قوت یا اسلحہ کے طور پر مال چھین لے جائے اور اچکا وہ ہوتا ہے جو بڑی تیزی اور ہشیاری سے کسی کا مال لے اڑے اور خائن اسے کہتے ہیں جو حفاظت کے لئےدیے گئے مال سے انکاری ہوجائے۔
ان پر چوری کی تعریف ثابت نہیں ہوتی۔
چور وہ ہوتا ہے جو پوشیدہ چھپ کر خاص محفوظ مقام سے کسی غیر کا مال نکل جائے۔
مذکورہ جرائم میں بلاشبہ دیگرسزائیں لازم آتی ہیں، لیکن ہاتھ نہیں کٹتا۔
لیٹرا وہ ہوتا ہے جو قوت یا اسلحہ کے طور پر مال چھین لے جائے اور اچکا وہ ہوتا ہے جو بڑی تیزی اور ہشیاری سے کسی کا مال لے اڑے اور خائن اسے کہتے ہیں جو حفاظت کے لئےدیے گئے مال سے انکاری ہوجائے۔
ان پر چوری کی تعریف ثابت نہیں ہوتی۔
چور وہ ہوتا ہے جو پوشیدہ چھپ کر خاص محفوظ مقام سے کسی غیر کا مال نکل جائے۔
مذکورہ جرائم میں بلاشبہ دیگرسزائیں لازم آتی ہیں، لیکن ہاتھ نہیں کٹتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4393]
Sunan Abi Dawud Hadith 4393 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري