علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في من نام عن الصلاة أو نسيها
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءًا لَمْ يَلْثَ مِنْهُ التُّرَابُ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ عَجِلٍ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: أَقِمْ الصَّلَاةَ. ثُمَّ صَلَّى الْفَرْضَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، قَالَ: عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ، حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْحَبَشَةِ، وقَالَ عُبَيْدٌ: يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ.
ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ (خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنے پانی سے) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ”نماز کے لیے تکبیر کہو“ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح.» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 445]
یزید بن صالح نے سیدنا ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ سے، اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے۔ اس قصے میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور مختصر وضو کہ اس سے مٹی بھی اچھی طرح گیلی نہ ہوئی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور سکون سے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اقامت کہو۔“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور آپ جلدی میں نہ تھے۔ (ابراہیم نے اپنی سند میں) کہا: «حَجَّاجٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ» یہ ایک حبشی فرد تھا۔ اور عبید نے سند میں (راوی کا نام) یزید بن صالح بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3548)، وقد أخرجہ: (4/90) (صحیح)»
وضاحت: ثابت ہوا کہ قضاء نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان، اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن صالح: مجھول الحال لا يعتبر به ولم يثبت توثيقه عن أبي داود
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
إسناده ضعيف
يزيد بن صالح: مجھول الحال لا يعتبر به ولم يثبت توثيقه عن أبي داود
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 445 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 445
445۔ اردو حاشیہ:
قضا نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔
قضا نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 445]
Sunan Abi Dawud Hadith 445 in Urdu
يزيد بن صالح الرحبي ← ذو مخبر الحبشي