سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ، أَوْ نَسِيَهَا
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ، قَالَ: فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا بِلَالُ، فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ لَهُمُ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0"، قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ عَنْبَسَةُ يَعْنِي عَنْ يُونُسَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لِذِكْرِي، قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(تم جاگتے رہنا) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا“، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا: ”اے بلال!“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ۱؎، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز پڑھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نماز قائم کرو جب یاد آئے“۔ یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے (یعنی «للذكرى» لیکن مشہور قرأت: «أقم الصلاة للذكرى» (سورۃ طہٰ: ۱۴) ہے)۔ احمد کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں «للذكرى» کہا ہے۔ احمد کہتے ہیں: «الكرى» «نعاس» (اونگھ) کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 435]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹ رہے تھے تو ایک رات، رات بھر چلتے رہے، حتیٰ کہ جب ہم کو نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام کے لیے اتر گئے اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آج رات ہمارا پہرہ دینا۔“ بیان کرتے ہیں کہ پھر بلال رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بھی ان پر غالب آ گئیں (یعنی سو گئے) اور وہ اپنے اونٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، چنانچہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے، نہ بلال رضی اللہ عنہ ہی اور نہ کوئی اور صحابی رضی اللہ عنہ۔ حتیٰ کہ جب انہیں دھوپ لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے جاگنے والے تھے، آپ گھبرائے اور فرمایا: ”اے بلال!“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اسی چیز نے پکڑ لیا جس نے آپ کو پکڑا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان!“ پھر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم) وہاں سے چل دیے (اور کچھ دور جا کر اترے) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جو شخص نماز کو بھول جائے تو جب یاد آئے اسی وقت پڑھ لیا کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى﴾ [سورة طه: 14] ”نماز قائم کرو جب یاد آئے۔“”یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ اسی طرح «للذِّكْرَى» (الف مقصورہ کے ساتھ) پڑھا کرتے تھے۔ احمد رحمہ اللہ نے بواسطہ عنبسہ، یونس رحمہ اللہ سے «لِذِكْرِي» (یائے متکلم کے ساتھ) روایت کیا ہے (یعنی میری یاد کے لیے یا میری یاد آنے کے وقت)۔ احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (متن حدیث میں وارد لفظ) «الْكَرَى» کا معنی ”اونگھ“ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 55 (680)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (697)، (تحفة الأشراف: 13326)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر 20 (3163)، سنن النسائی/المواقیت 53 (619،620)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 6(25 مرسلاً) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (680)
حدیث نمبر: 436
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ إِسْحَاقَ، لم يذكر أحد منهم الأذان في حديث الزهري هذا ولم يسنده منهم أحد، إلا الأوزاعي، وأبان العطار، عَنْ مَعْمَرٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو“، وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ۱؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ۲؎ کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 436]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا قصے میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جگہ سے نکل چلو جہاں تم پر غفلت طاری ہوئی ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان اور پھر اقامت کہی اور نماز پڑھی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو امام مالک، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ مگر کسی نے بھی زہری کی اس روایت میں اذان کا ذکر نہیں کیا۔ اور معمر سے اوزاعی اور ابان عطار کے سوا کسی نے بھی اس کو بیان نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13302) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں اذان کا اضافہ ہے، یونس والی روایت میں اذان کا ذکر نہیں، چھوٹی ہوئی نماز کے لئے اذان دی جائے گی یا نہیں اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، امام احمد کی رائے میں اذان اور اقامت دونوں کہی جائے گی، اور یہی قول اصحاب الرای کا بھی ہے، امام شافعی کا مشہور قول یہ ہے کہ صرف تکبیر کہی جائے گی اذان نہیں۔
۲؎: یہی واقعہ ہشام نے حسن کے واسطے سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اس میں بھی اذان کا ذکر ہے، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی اذان اور اقامت دونوں کا ذکر ہے (اور ان دونوں کی روایتیں آگے آ رہی ہیں) یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، نیز دیگر صحابہ کرام سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اور احادیث و روایات میں ثقہ راویوں کے اضافے اور زیادات مقبول ہوتی ہیں۔
۲؎: یہی واقعہ ہشام نے حسن کے واسطے سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اس میں بھی اذان کا ذکر ہے، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی اذان اور اقامت دونوں کا ذکر ہے (اور ان دونوں کی روایتیں آگے آ رہی ہیں) یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، نیز دیگر صحابہ کرام سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اور احادیث و روایات میں ثقہ راویوں کے اضافے اور زیادات مقبول ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم: 145)
وحديث البخاري (595) ومسلم (680) يغني عنه
وانظر الأصل: 444
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
إسناده ضعيف
ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم: 145)
وحديث البخاري (595) ومسلم (680) يغني عنه
وانظر الأصل: 444
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِلْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: انْظُرْ، فَقُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ رَاكِبَانِ، هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةٌ، حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً، فَقَالَ: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا يَعْنِي صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا فَسَارُوا هُنَيَّةً ثُمَّ نَزَلُوا فَتَوَضَّئُوا وَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ وَرَكِبُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ عَنْ صَلَاةٍ، فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، تو آپ ایک طرف مڑے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف مڑ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو، (یہ کون آ رہے ہیں)؟“، اس پر میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو ہیں، یہ تین ہیں، یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہماری نماز کا (یعنی نماز فجر کا) خیال رکھنا“، اس کے بعد انہیں نیند آ گئی اور وہ ایسے سوئے کہ انہیں سورج کی تپش ہی نے بیدار کیا، چنانچہ لوگ اٹھے اور تھوڑی دور چلے، پھر سواری سے اترے اور وضو کیا، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو سب نے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر دو رکعت فرض ادا کی، اور سوار ہو کر آپس میں کہنے لگے: ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو جانے میں کوئی کوتاہی اور قصور نہیں ہے، کوتاہی اور قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جس وقت یاد آئے اسے پڑھ لے اور دوسرے دن اپنے وقت پر پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 437]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ سے ایک طرف کو ہو گئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک طرف کو ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا دیکھو۔“ تو میں نے کہا: یہ ایک سوار (آ رہا) ہے، یہ دو ہیں اور وہ تین ہیں حتیٰ کہ ہم سات افراد ہو گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری نماز کا خیال کرنا۔“ یعنی فجر کا، لیکن ان کے کان بند کر دیے گئے (یعنی سوتے رہ گئے) پس ان کو سورج کی کرنوں ہی نے جگایا۔ وہ اٹھے اور کچھ وقت چلے، پھر اترے، وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔ سب نے فجر کی سنتیں پڑھیں پھر فجر کی نماز ادا کی اور سوار ہو گئے۔ تو لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”ہم نے اپنی نماز میں بہت تقصیر کی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو جانے میں کوئی تقصیر (کوتاہی) نہیں ہے۔ تقصیر (کوتاہی) تب ہوتی ہے جب انسان جاگتا ہو۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز (پڑھنا) بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اور پھر (آئندہ کے لیے) اگلے دن اسے بروقت ہی ادا کرے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (698)، (تحفة الأشراف: 12089)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، سنن النسائی/المواقیت 53 (618)، مسند احمد (5/305) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ الْمَدِينَةِ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَحَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَلَمْ تُوقِظْنَا إِلَّا الشَّمْسُ طَالِعَةً، فَقُمْنَا وَهِلِينَ لِصَلَاتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدًا رُوَيْدًا، حَتَّى إِذَا تَعَالَتِ الشَّمْسُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَرْكَعْهُمَا، فَقَامَ مَنْ كَانَ يَرْكَعُهُمَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَرْكَعُهُمَا فَرَكَعَهُمَا، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادَى بِالصَّلَاةِ فَنُودِيَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: أَلَا إِنَّا نَحْمَدُ اللَّهَ أَنَّا لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا يَشْغَلُنَا عَنْ صَلَاتِنَا، وَلَكِنَّ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَرْسَلَهَا أَنَّى شَاءَ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْغَدَاةِ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْيَقْضِ مَعَهَا مِثْلَهَا.
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ مدینہ سے عبداللہ بن رباح انصاری جنہیں انصار مدینہ فقیہ کہتے تھے ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ مجھ سے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار تھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا (اور پھر یہی قصہ بیان کیا)، اس میں ہے: تو سورج کے نکلنے ہی نے ہمیں جگایا، ہم گھبرائے ہوئے اپنی نماز کے لیے اٹھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، ٹھہرو، یہاں تک کہ جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو لوگ فجر کی دو رکعت سنت پڑھا کرتے تھے پڑھ لیں“، چنانچہ جو لوگ سنت پڑھا کرتے تھے اور جو نہیں پڑھتے تھے، سبھی سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور سبھوں نے دو رکعت سنت ادا کی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا، اذان دی گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں نہیں پھنسے تھے، جس نے ہم کو نماز سے باز رکھا ہو، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، جب اس نے چاہا انہیں چھوڑا، تم میں سے جو شخص کل فجر ٹھیک وقت پر پائے وہ اس کے ساتھ ایسی ہی ایک اور نماز پڑھ لے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 438]
خالد بن سمیر رحمہ اللہ راوی ہیں کہ مدینہ سے عبداللہ بن رباح انصاری رحمہ اللہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور انصار انہیں فقیہ گردانتے تھے۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جیش الامراء“ روانہ فرمایا اور یہ قصہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سورج ہی نے طلوع ہو کر جگایا اور ہم گھبرا کر نماز کے لیے اٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیال سے، سنبھل کر۔“ حتیٰ کہ جب سورج اونچا آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے سنتیں پڑھنا چاہتا ہے پڑھ لے۔“ تو جو پہلے پڑھا کرتا تھا اس نے پڑھیں اور جو نہ پڑھتا تھا اس نے بھی پڑھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے تو اذان کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں مشغول نہ تھے کہ نماز ہم سے رہ گئی بلکہ ہماری روحیں اللہ کے ہاتھ میں تھیں تو اس نے جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، لہٰذا جو تم میں سے کل صحت و سلامتی کے ساتھ نماز فجر پائے اس کے ساتھ اس نماز کی قضاء بھی دے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 12089) (شاذ)» (اس کے راوی خالد بن سمیر وہم کے شکار ہو جاتے تھے اور اس حدیث میں ان سے کئی جگہ وہم ہوا ہے جو بقیہ احادیث سے واضح ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 439
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حَيْثُ شَاءَ، وَرَدَّهَا حَيْثُ شَاءَ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ. فَقَامُوا فَتَطَهَّرُوا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو“، چنانچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 439]
جناب ابن ابی قتادہ (اپنے والد) سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے اس خبر میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جب چاہا تمہاری روحیں قبض کر لیں اور جب چاہا لوٹا دیں، لہٰذا اٹھو اور نماز کے لیے اذان کہو۔“ چنانچہ وہ اٹھے اور وضو کیا حتیٰ کہ جب سورج بلند ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 35 (595)، سنن النسائی/الإمامة 47 (847)، (تحفة الأشراف: 12096) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7471)
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 440]
جناب عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا جبکہ سورج اونچا آ گیا، پھر انہیں نماز پڑھائی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12096) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ أَنْ تُؤَخِّرَ صَلَاةً حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ أُخْرَى".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 441]
جناب عبداللہ بن رباح سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند میں قصور نہیں۔ قصور جاگنے کی حالت میں ہوتا ہے۔ (وہ اس طرح) کہ تم کسی نماز کو اس حد تک مؤخر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، سنن النسائی/المواقیت 53(618)، (تحفة الأشراف: 12085) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (681)
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 442]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز کو بھول جائے تو وہ اسے اسی وقت ادا کرے جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 55 (684)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (178)، سنن النسائی/المواقیت 51 (614)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (696)، (تحفة الأشراف: 1430)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 37 (597)، مسند احمد (3/100، 243، 266، 269، 282)، سنن الدارمی/الصلاة 26 (1265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (597) صحيح مسلم (684)
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَامُوا عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَاسْتَيْقَظُوا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَارْتَفَعُوا قَلِيلًا حَتَّى اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ لوگ نماز فجر میں سوئے رہ گئے، سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے تو تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج چڑھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اذان دی تو آپ نے فجر (کی فرض نماز) سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی، پھر (مؤذن نے) تکبیر کہی اور آپ نے فجر پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 443]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے کہ لوگ صبح کی نماز کے وقت سوئے رہے اور سورج کی گرمی سے جاگے۔ پھر کچھ چلے حتیٰ کہ سورج بلند ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان کہی اور فرضوں سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر اقامت ہوئی اور نماز فجر پڑھائی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10815)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التیمم 6 (344)، صحیح مسلم/المساجد 55 (682) (کلا ھما من غیر طریق الحسن)، مسند احمد (4/431، 441، 444) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري (تقدم: 17) وھشام بن حسان (طبقات المدلسين: 110/ 3) مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
إسناده ضعيف
الحسن البصري (تقدم: 17) وھشام بن حسان (طبقات المدلسين: 110/ 3) مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَهَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ عَنِ الصُّبْحِ، حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَنَحَّوْا عَنْ هَذَا الْمَكَانِ، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ فجر میں سوئے رہ گئے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: ”اس جگہ سے کوچ کر چلو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 444]
جناب زبرقان نے اپنے چچا سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت میں سوئے رہے حتیٰ کہ سورج نکل آیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے تو فرمایا: ”اس جگہ سے دور ہو چلو۔“ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی۔ پھر سب نے وضو کیا اور فجر کی سنتیں پڑھیں۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10703)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/91، 139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح