علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في من نام عن الصلاة أو نسيها
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 446
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَرِيزٍ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَذَّنَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ.
اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 446]
جناب یزید بن صلیح نے سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ یعنی نجاشی کے بھتیجے سے اس خبر میں بیان کیا، انہوں نے کہا: ”تو اس نے اذان کہی اور وہ جلدی میں نہ تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3548) (شاذ)» (ولید بن مسلم مدلس ہیں اور دیگر رواة کی مخالفت کرتے ہوے اذان کی بابت بھی «وھو غیر عجل» بڑھا دیا ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق: 445
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق: 445
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 446 in Urdu
يزيد بن صالح الرحبي ← ذو مخبر الحبشي