سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب في ترك القود بالقسامة
باب: قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4524
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلَفُوهُمْ، فَأَبَوْا، فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کر دیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہو جانے کی گواہی دیں؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کر لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو“ لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4524]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصاریوں کا ایک آدمی خیبر میں قتل ہو گیا، تو اس کے وارث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گئے اور اس مقتول کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے اس ساتھی کے قتل کے متعلق گواہی دیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہاں مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہ تھا، اور وہ لوگ یہودی ہیں، وہ اس سے بھی بڑی باتوں کی جرأت کر سکتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں سے پچاس آدمیوں کو منتخب کر لو اور ان سے قسمیں لے لو۔“ مگر انہوں نے انکار کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3564) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3532)
وللحديث شواھد كثيرة جدًا منھا الحديث السابق (4523)
مشكوة المصابيح (3532)
وللحديث شواھد كثيرة جدًا منھا الحديث السابق (4523)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4524
| لكم شاهدان يشهدان على قتل صاحبكم قالوا يا رسول الله لم يكن ثم أحد من المسلمين وإنما هم يهود وقد يجترئون على أعظم من هذا قال فاختاروا منهم خمسين فاستحلفوهم فأبوا فوداه النبي من عنده |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4524 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4524
فوائد ومسائل:
صحیح اور راجح یہ ہے کہ پہلےمدعی لوگوں میں سے بچاس آدمی قسمیں کھا کر اپنا دعوی ثابت کریں گے، تب فریق مخالف سے قسمیں وغیرہ لی جائیں گی۔
صحیح اور راجح یہ ہے کہ پہلےمدعی لوگوں میں سے بچاس آدمی قسمیں کھا کر اپنا دعوی ثابت کریں گے، تب فریق مخالف سے قسمیں وغیرہ لی جائیں گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4524]
Sunan Abi Dawud Hadith 4524 in Urdu
عباية بن رفاعة الزرقي ← رافع بن خديج الأنصاري