سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب فِي التَّفْضِيلِ
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟
حدیث نمبر: 4627
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4627]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہ کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کا درجہ سمجھتے تھے)، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں کوئی تفضیل نہ سمجھتے تھے۔ (بلکہ سب کو مساوی سمجھتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 4 (3655)، 7 (3698)، (تحفة الأشراف: 8028) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3698)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3655
| نخير بين الناس في زمن النبي فنخير أبا بكر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان م |
صحيح البخاري |
3698
| لا نعدل بأبي بكر أحدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترك أصحاب النبي لا نفاضل بينهم |
سنن أبي داود |
4627
| لا نعدل بأبي بكر أحدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترك أصحاب النبي لا نفاضل بينهم |
سنن أبي داود |
4628
| أفضل أمة النبي بعده أبو بكر ثم عمر ثم عثمان م أجمعين |
Sunan Abi Dawud Hadith 4627 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي