سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ما جاء في الصلاة عند دخول المسجد
باب: مسجد میں داخل ہونے کے وقت کی نماز (تحیۃ المسجد) کا بیان۔
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ، زَادَ: ثُمَّ لِيَقْعُدْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ، أَوْ لِيَذْهَبْ لِحَاجَتِهِ.
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر اس کے بعد چاہے تو وہ بیٹھا رہے یا اپنی ضرورت کے لیے چلا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12123) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رجل من بني زريق وعمرو بن سليم، انظر الحديث السابق
رجل من بني زريق وعمرو بن سليم، انظر الحديث السابق
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 468 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 468
468. اردو حاشیہ:
تحیۃ المسجد کے حکم میں علماء کا اختلاف رہا ہے۔ اصحاب ظواہر اور کچھ اصحاب الحدیث اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ جب کہ جمہور کے نزدیک یہ حکم استحباب ہے۔ اور اوقات غیر مکروہہ سے خاص ہے۔ ہمارے مشائخ کا میلان بھی اس طرف ہے۔ جیسے کہ امام نسائی کی تبویب و استدلال سے ظاہر ہے۔ [باب الرجفة فى الجلوس فيه والخروج منه بغير صلوة، حديث: 732]
اس ضمن میں وہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث لائے ہیں۔ «حتي جئت فلما سلمت تبسم تبسم المغضب ثم قال تعالي فجئت حتي جلست بين يديه» اور آخر میں حدیث ہے۔ «أما هذا فقد صدق فقم حتي يقضي الله فيك فقمت فمضيت» [سنن نسائي حديث نمبر 732]
اس حدیث میں بظاہر یہی ہے کہ انہوں نے تحیۃ المسجد کے نفل نہیں پڑھے تھے۔ دوسرے علماء «إذا» ”جب بھی مسجد داخل ہو“ کے عموم سے اوقات مکروہہ میں بھی تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھنے کو مستحب اور بعض واجب قرار دیتے ہیں۔ بہرحال تحیۃ المسجد کا حکم بلاشبہ تاکیدی ہے۔ حتیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ جمعہ میں بھی اس کے پڑھنے کا حکم دیا ہے، اس لئے غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
تحیۃ المسجد کے حکم میں علماء کا اختلاف رہا ہے۔ اصحاب ظواہر اور کچھ اصحاب الحدیث اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ جب کہ جمہور کے نزدیک یہ حکم استحباب ہے۔ اور اوقات غیر مکروہہ سے خاص ہے۔ ہمارے مشائخ کا میلان بھی اس طرف ہے۔ جیسے کہ امام نسائی کی تبویب و استدلال سے ظاہر ہے۔ [باب الرجفة فى الجلوس فيه والخروج منه بغير صلوة، حديث: 732]
اس ضمن میں وہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث لائے ہیں۔ «حتي جئت فلما سلمت تبسم تبسم المغضب ثم قال تعالي فجئت حتي جلست بين يديه» اور آخر میں حدیث ہے۔ «أما هذا فقد صدق فقم حتي يقضي الله فيك فقمت فمضيت» [سنن نسائي حديث نمبر 732]
اس حدیث میں بظاہر یہی ہے کہ انہوں نے تحیۃ المسجد کے نفل نہیں پڑھے تھے۔ دوسرے علماء «إذا» ”جب بھی مسجد داخل ہو“ کے عموم سے اوقات مکروہہ میں بھی تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھنے کو مستحب اور بعض واجب قرار دیتے ہیں۔ بہرحال تحیۃ المسجد کا حکم بلاشبہ تاکیدی ہے۔ حتیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ جمعہ میں بھی اس کے پڑھنے کا حکم دیا ہے، اس لئے غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 468]
اسم مبهم ← الحارث بن ربعي السلمي