سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في القدر
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4696
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: لَقِيَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرْنَا لَهُ الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ زَادَ، قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَا نَعْمَلُ أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا، وَمَضَى، فَقَالَ الرَّجُلُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ.
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے تو ہم نے آپ سے تقدیر کے بارے میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا ذکر کیا۔ پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ سے مزینہ یا جہینہ ۱؎ کے ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کیا جان کر عمل کریں؟ کیا یہ جان کر کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ سب پہلے ہی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے، یا یہ جان کر کہ (پہلے سے نہیں لکھا گیا ہے) نئے سرے سے ہونا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جان کر کہ جو کچھ ہونا ہے سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے“ پھر اس شخص نے یا کسی دوسرے نے کہا: تو آخر یہ عمل کس لیے ہے؟ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کے لیے اہل جنت والے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں اور اہل جہنم کو اہل جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4696]
جناب یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ”ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے اور ان سے تقدیر اور دیگر مسائل جو وہ لوگ بولتے تھے، دریافت کیے، تو مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیے اور مزید کہا: مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم عمل کس بنا پر کریں؟ کیا یہ جان کر کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے یا یہ سمجھ کر کہ معاملہ نیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سمجھ کر کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے۔“ تو قوم میں سے ایک نے کہا: ”تو پھر عمل کیوں ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ جنتی اہل جنت کے عملوں کی توفیق دیے جاتے ہیں اور دوزخی اہل جہنم کے عملوں کی توفیق دیے جاتے ہیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10572) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دو قبیلوں کے نام ہیں۔
۲؎: یعنی جب جنت و جہنم کا فیصلہ ہو چکا ہے تو عمل کیوں کریں، یہی سوچ گمراہی کی ابتداء تھی۔
۲؎: یعنی جب جنت و جہنم کا فیصلہ ہو چکا ہے تو عمل کیوں کریں، یہی سوچ گمراہی کی ابتداء تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4695)
انظر الحديث السابق (4695)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4696 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4696
فوائد ومسائل:
مسلسل عمل کرنا انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے تو جو کوئی اپنے اعمال میں خیر پائے اسے اللہ کا شکر کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہیے اور مزید محنت کرنی چاہیے اور جس کے اعمال غلط ہوں تو وہ توبہ کرے اور اپنے اعمال بد ل کر خیر اپنائے۔
اللہ عزوجل تو نہ قبول کرنے والا اور نیکی کی توفیق دینے والا ہے، غلط سے صحیح کی یہ تبدیلی اللہ تعالی کو پہلے ہی معلوم ہے۔
مسلسل عمل کرنا انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے تو جو کوئی اپنے اعمال میں خیر پائے اسے اللہ کا شکر کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہیے اور مزید محنت کرنی چاہیے اور جس کے اعمال غلط ہوں تو وہ توبہ کرے اور اپنے اعمال بد ل کر خیر اپنائے۔
اللہ عزوجل تو نہ قبول کرنے والا اور نیکی کی توفیق دینے والا ہے، غلط سے صحیح کی یہ تبدیلی اللہ تعالی کو پہلے ہی معلوم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4696]
Sunan Abi Dawud Hadith 4696 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الحميري ← عبد الله بن عمر العدوي