🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في التحلق
باب: مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ شَرِيكًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الاستئذان 29 (2725)، (تحفة الأشراف: 2173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/91، 107) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف ؎
ترمذي (2725)
شريك مدلس وعنعن
ولم أجد من تابعه
وللحديث شاھد ضعيف في المعجم الكبير للطبراني (7197) وحديث البخاري (66) ومسلم (2176) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← سماك بن حرب الذهلي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة
👤←👥محمد بن جعفر الوركاني، أبو عمران
Newمحمد بن جعفر الوركاني ← هناد بن السري التميمي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4825 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4825
فوائد ومسائل:
1) یہ بات انتہائی معیوب ہوتی ہے کہ انسان دیر سے آئے اور پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے جگہ لینے کی کوشش کرے۔
ہاں اگر پہلے آنے والوں نے مجلس کا ادب ملحوظ نہ رکھا ہو کہ آگے جگہ خالی چھوڑ دی ہو اور راستے میں بیٹھ گئے ہوں تو گردنیں پھلانگنا جائز ہو گا۔
کیونکہ انھوں نے از خود اپنا وقار ضائع کیا ہو تا ہے۔

2) یہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سندََا ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق و تخریج میں اس بات کی وضاحت کی ہے علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4825]