🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب النَّهْىِ عَنِ السَّمَرِ، بَعْدَ الْعِشَاءِ
باب: عشاء کے بعد بات چیت منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4849
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّوْمِ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے ۱؎ اور اس کے بعد بات کرنے ۲؎ سے منع فرماتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4849]
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمایا کرتے تھے کہ ”عشاء کی نماز سے پہلے سویا جائے یا اس کے بعد باتوں میں مشغول رہا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ المواقیت 23 (568)، سنن الترمذی/الصلاة 11 (168)، سنن ابن ماجہ/ الصلاة 125 (701)، (تحفة الأشراف: 11605، 11606) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اس میں عشاء چھوٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے۔
۲؎: اور اس صورت میں قیام اللیل (تہجد) اور فجر کے چھوٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (599)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نضلة بن عمرو الأسلمي، أبو برزةصحابي
👤←👥سيار بن سلامة الرياحي، أبو المنهال
Newسيار بن سلامة الرياحي ← نضلة بن عمرو الأسلمي
ثقة
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← سيار بن سلامة الرياحي
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
568
يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها
جامع الترمذي
168
يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها
سنن أبي داود
4849
النوم قبلها والحديث بعدها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4849 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4849
فوائد ومسائل:
عشاء کی نماز سے پہلے سو جانے سے اندیشہ ہے کہ عشاء کی نماز یا جماعت فوت ہا جائےٓ اور ایسے ہی عشاء کی نماز کے بعد بے مقصد باتوں میں مشغول رہنے سے فجر کی نماز یا جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
ہاں اگر کو ئی اہم مقصد ہو تو مشغول ہونا جائز ہے۔
جیسے کی طلباء کا رات گئے تک مطالعہ یا مذاکرہ کرنا یا دیگر اہم ذمہ داریوں کی ادائیگی کی غرض سے جاگنا جائز ہے، مگر شرط یہ ہے کہ فجر کی نماز ضائع نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4849]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 568
نماز عشاء پڑھنے سے پہلے سونا ناپسند ہے
«. . . عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا . . .»
”. . . ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ:: 568]
� تشریح:
جب خطرہ ہو کہ عشاء کے پہلے سونے سے نماز باجماعت چلی جائے گی تو سونا جائز نہیں۔ ہر دو احادیث میں جو آگے آ رہی ہے، یہی تطبیق بہتر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 568]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:568
568. حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:568]
حدیث حاشیہ:
محدثین کرام نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عشاء سے پہلے سونے کی کراہت اسی صورت میں ہے جب نماز باجماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہو، ہر شخص کے لیے ہر حال میں عشاء سے پہلے سونا مکروہ نہیں۔
اگر کسی شخص کو اپنی نیند پر قابو ہے یا اس نے وقت پر بیدار ہو نے کا انتظام کررکھا ہے یا ایسی جگہ سورہاہے جہاں لوگ اسے خود ہی اٹھادیں گے یا کوئی شخص اضطراری طور پر سوجائے تو اس کے لیے عشاء سے قبل سونا مکروہ نہیں جیسا کہ آئندہ باب میں اس کے متعلق مزید وضاحت ہوگی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 568]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 168
عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کی کراہت کا بیان۔
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 168]
اردو حاشہ:
1؎:
عشاء سے پہلے سونے کی کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے عشا ء فوت ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے،
اور عشاء کے بعد بات کرنا اس لیے نا پسندیدہ ہے کہ اس سے سونے میں تاخیر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے لیے تہجد یا فجر کے لیے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے امام نووی نے علمی مذاکرہ وغیرہ کو جو جائز اور مستحب بتایا ہے تو یہ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ نمازِ فجر وقت پر ادا کی جائے،
اگر رات کو تعلیم و تعلم یا وعظ و تذکیر میں اتنا وقت صرف کر دیا جائے کہ فجرکے وقت اٹھا نہ جا سکے تو یہ جواز و استحباب بھی محل نظر ہوگا۔
(دیکھئے اگلی حدیث اور اس کا حاشہ)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 168]

Sunan Abi Dawud Hadith 4849 in Urdu