🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب في النصيحة والحياطة
باب: خلوص و خیر خواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4918
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4918]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، اس کے مال کا (نقصان ہوتا ہو تو) بچاؤ کرتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی (عزت کی) حفاظت کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14807)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 18 (1929) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه البخاري في الأدب المفرد (239)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥الوليد بن رباح الدوسي
Newالوليد بن رباح الدوسي ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥كثير بن زيد الأسلمي، أبو محمد
Newكثير بن زيد الأسلمي ← الوليد بن رباح الدوسي
صدوق يخطئ
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← كثير بن زيد الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة حافظ
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4918
المؤمن مرآة المؤمن المؤمن أخو المؤمن يكف عليه ضيعته يحوطه من ورائه
بلوغ المرام
1329
المؤمن مرآة أخيه المؤمن
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4918 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4918
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائی کے عیوب کی تشہیر کرنا جائز نہیں، البتہ خا موشی کے ساتھ مناسب انداز میں فہمائش ضرور کر دے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔
نیز اس کی حاضری یا غیر حاضری میں ہر طرح سے اس کی خیر خواہی کرنا واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4918]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1329
مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے۔ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1329»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأدب، باب في النصيحة والحياطة، حديث:4918.»
تشریح:
1. مطلب یہ ہے کہ آئینہ جس طرح اپنے دیکھنے والے کے محاسن اور نقائص بلا کم و کاست اس کے سامنے رکھ دیتا ہے‘ اسی طرح ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی کے لیے آئینے کا کام دیتا ہے‘ چنانچہ وہ اپنے بھائی کو عیوب اور نقائص پر متنبہ کر کے اسے خبردار کر دیتا ہے کہ اپنی اصلاح کر لے۔
2. یہ کام آئینہ صرف اپنے دیکھنے والے ہی کو بتاتا ہے‘ دوسرے کے روبرو چغلی نہیں کھاتا۔
3.آئینہ اتنا عیب و نقص ہی بتاتا ہے جتنا دیکھنے والے کے چہرے مہرے میں ہوتا ہے‘ اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہیں کرتا اور اس کے سامنے بیان کرتا ہے‘ اس کی عدم موجودگی اور پیٹھ پیچھے ذکر نہیں کرتا۔
اسی طرح ایک مومن کو اپنے مومن بھائی کے سامنے اس کے عیوب بیان کرنے چاہئیں‘ اس کی عدم موجودگی میں نہیں اور اتنے عیوب ہی بیان کرنے چاہئیں جتنے حقیقت میں اس میں پائے جاتے ہوں‘ اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہیں کرنی چاہیے۔
4.آئینہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھی اپنے دیکھنے والے کے عیوب ہر ٹکڑے میں وہی دکھاتا ہے جو اس میں پائے جاتے ہیں‘ اسی طرح مومن کو اپنے بھائی سے ناراض ہو کر بھی اتنے ہی عیوب بیان کرنے چاہئیں جتنے فی الواقع اس میں پائے جاتے ہوں۔
5.آئینہ ٹوٹ کر اپنی اصلیت کھو نہیں دیتا‘ اسی طرح مومن کو اپنی اصلیت نہیں کھونی چاہیے۔
اور دوسرے مومن کو چاہیے کہ اپنے عیوب پر تنبیہ کو اپنے لیے سچی خیر خواہی اور حقیقی ہمدردی سمجھے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1329]

Sunan Abi Dawud Hadith 4918 in Urdu