سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب في الأرجوحة
باب: جھولے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4934
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ مِثْلَهُ، قَالَ: عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ.
ابواسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے اس میں ہے (ان عورتوں نے کہا) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا (میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4934]
جناب ابواسامہ رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث کے مثل روایت کیا اور کہا: «خَيْرًا لَكِ» ”اللہ کرے تیری قسمت اچھی ہو۔“ اور مجھے ان عورتوں کے حوالے کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے بنایا سنوارا، اور میں اس وقت ڈر سی گئی جب دن چڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے ہوئے تو انہوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16855) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4933)
انظر الحديث السابق (4933)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة | ثقة ثبت | |
👤←👥إبراهيم بن سعيد الجوهري، أبو إسحاق إبراهيم بن سعيد الجوهري ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة حافظ |
Sunan Abi Dawud Hadith 4934 in Urdu
إبراهيم بن سعيد الجوهري ← حماد بن أسامة القرشي