علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب في الأرجوحة
باب: جھولے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4937
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عِذْقَيْنِ، فَجَاءَتْنِي أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي وَلِي جُمَيْمَةٌ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج میں اترے، قسم اللہ کی میں دو شاخوں کے درمیان ڈلے ہوئے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں آئیں اور مجھے جھولے سے اتارا، میرے سر پر چھوٹے چھوٹے بال تھے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 17682)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/210) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4937 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4937
فوائد ومسائل:
آج کل کے بعض جدید مفکرین اور بزعمِ خویش نویس مزاج مجددین کو ان احادیث اور صغر سنی (چھوٹی عمر) کے اس نکاح اور شادی پر بہت اعتراض ہے۔
وہ مختلف انداز سے اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ اس انکار کی کوئی حقیقی وجہ نہیں ہے۔
ان لوگوں کو چاہیئے کہ طبی، معاشرتی، علاقائی، اور جغرافیائی احوال و ظروف کا دقیق نظری سے مطالعہ کریں تو واضح ہوگا کہ بعض احوال اور بعض علاقوں میں اس عمر کی لڑکیوں کا بالغ ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے اور پھر عائلی زندگی کے فطری مراحل سے گزرنا ان کے لیے کوئی انہونی بات نہیں ہوتی۔
اس واقعے میں بالخصو ص یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ نکاح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مزید قربت و شرف دینے کے لیئے عمل میں لایا گیا تھا۔
تا کہ انہیں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں وقت بے وقت آنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
اور ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ربط و ضبط مزید گہرا ہو جائے۔
اور پھر اس نکاح کی بنیاد وہ خواب تھے جو تواتر کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلائے گئے تھے۔
یہ خواب اس بات کی طرف اشارہ تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقدر کر دیا گیا ہے۔
یہ احادیث صحیح اور واقعہ تاریخی شرعی اور فقہی اعتبار سے بالکل صحیح اور عین حق ہے اس کا انکار در حقیقت انکارِ حدیث کا زینہ ہے۔
آج کل کے بعض جدید مفکرین اور بزعمِ خویش نویس مزاج مجددین کو ان احادیث اور صغر سنی (چھوٹی عمر) کے اس نکاح اور شادی پر بہت اعتراض ہے۔
وہ مختلف انداز سے اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ اس انکار کی کوئی حقیقی وجہ نہیں ہے۔
ان لوگوں کو چاہیئے کہ طبی، معاشرتی، علاقائی، اور جغرافیائی احوال و ظروف کا دقیق نظری سے مطالعہ کریں تو واضح ہوگا کہ بعض احوال اور بعض علاقوں میں اس عمر کی لڑکیوں کا بالغ ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے اور پھر عائلی زندگی کے فطری مراحل سے گزرنا ان کے لیے کوئی انہونی بات نہیں ہوتی۔
اس واقعے میں بالخصو ص یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ نکاح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مزید قربت و شرف دینے کے لیئے عمل میں لایا گیا تھا۔
تا کہ انہیں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں وقت بے وقت آنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
اور ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ربط و ضبط مزید گہرا ہو جائے۔
اور پھر اس نکاح کی بنیاد وہ خواب تھے جو تواتر کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلائے گئے تھے۔
یہ خواب اس بات کی طرف اشارہ تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقدر کر دیا گیا ہے۔
یہ احادیث صحیح اور واقعہ تاریخی شرعی اور فقہی اعتبار سے بالکل صحیح اور عین حق ہے اس کا انکار در حقیقت انکارِ حدیث کا زینہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4937]
Sunan Abi Dawud Hadith 4937 in Urdu
يحيى بن عبد الرحمن اللخمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق