🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
121. باب في التفاخر بالأحساب
باب: حسب و نسب پر فخر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5116
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَي. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ: مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ: أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ، إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتِنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ۱؎، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں (اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کر لے جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5116]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ عز وجل نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کو دور کر دیا ہے۔ (تمہیں ایمان و اسلام سے معزز بنایا ہے) (آدمی دو قسم کے ہیں) صاحب ایمان، متقی یا فاجر اور بدبخت۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ لوگوں کو قومی نخوت ترک کرنا پڑے گی، وہ تو (کفر و شرک کے سبب) جہنم کے کوئلے بن چکے، ورنہ یہ (قوم پر تکبر کرنے والے) اللہ کے ہاں گندگی کے کالے کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو دھکیلتا پھرتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/المناقب 75 (3956)، (تحفة الأشراف: 14333) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اصلاً تم سب ایک ہو پھر ایک دوسرے پر فخر کرنا کیسا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4899)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد
Newكيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← كيسان المقبري
ثقة
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد
Newهشام بن سعد القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق له أوهام
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← هشام بن سعد القرشي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن سعيد القرطبي، أبو جعفر
Newأحمد بن سعيد القرطبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥المعافى بن عمران الأزدي، أبو مسعود
Newالمعافى بن عمران الأزدي ← أحمد بن سعيد القرطبي
ثقة
👤←👥موسى بن مروان التمار، أبو عمران
Newموسى بن مروان التمار ← المعافى بن عمران الأزدي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3955
لينتهين أقوام يفتخرون بآبائهم الذين ماتوا إنما هم فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعل الذي يدهده الخراء بأنفه إن الله قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء إنما هو مؤمن تقي وفاجر شقي الناس كلهم بنو آدم وآدم خلق من تراب
جامع الترمذي
3956
أذهب الله عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء مؤمن تقي وفاجر شقي والناس بنو آدم وآدم من تراب
سنن أبي داود
5116
أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء مؤمن تقي وفاجر شقي أنتم بنو آدم وآدم من تراب ليدعن رجال فخرهم بأقوام إنما هم فحم من فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعلان التي تدفع بأنفها النتن
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5116 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5116
فوائد ومسائل:
کسی بھی صاحب ایمان کوزیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے آباء واجداد پر فخر کرے۔
عزت وکرامت کا معیار اللہ کے ہاں تقویٰ ہے۔
(إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ) (الحجرات۔
13) اور جسے یہ قوی شرف حاصل ہو اسے اللہ عزوجل کا بے انتہا شکر گزار بننا چاہیے اور اپنے آباء کےشرف ایمان وتقویٰ کی حفاظت کرنے میں محنت کرنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5116]

Sunan Abi Dawud Hadith 5116 in Urdu