سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
139. باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
حدیث نمبر: 5185
حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَعْنَى، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا، قَالَ قَيْسٌ: فَقُلْتُ: أَلَا تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , فَقَالَ ذَرْهُ: يُكْثِرُ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ: عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ سَعْدُ رَدًّا خَفِيًّا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ , قال: فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ، فَاشْتَمَلَ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , قال: ثُمَّ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ لَهُ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ قَيْسٌ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْكَبْ فَأَبَيْتُ , ثُمَّ قَالَ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ" , قال هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَابْنُ سَمَاعَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ.
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے (باہر رک کر) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے (سعد سے) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو (جلدی نہ کرو) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (اور جواب نہ سن کر) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے (پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: ”اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما“ پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم بھی سوار ہو جاؤ“ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ“۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5185]
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے (باہر رک کر) ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے (سعد سے) کہا: ”آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟“ سعد نے کہا: ”چھوڑو (جلدی نہ کرو) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ (اور جواب نہ سن کر) لوٹ پڑے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: ”اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے (پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ» ”اے اللہ! آلِ سعد بن عبادہ پر اپنی خاص برکتیں اور رحمتیں نازل فرما۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھانا کھایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو سعد رضی اللہ عنہ نے گدھا قریب کر دیا جبکہ اس کی پیٹھ پر کپڑا ڈال دیا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے۔ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے قیس! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔“ قیس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ مگر میں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ۔“ چنانچہ میں واپس آ گیا۔ ہشام، ابومردان نے یہ روایت محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ سے بصیغہ «عن» روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعہ نے یہ روایت اوزاعی سے مرسل روایت کی ہے اور ان دونوں نے قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11096)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 59 (466)، اللباس22 (3604)، مسند احمد (3/421، 6/7) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
في سماع محمد بن عبد الرحمٰن بن أسعد بن زرارة من قيس بن سعد بن عبادة نظر
وللحديث طريق آخر ضعيف عند النسائي في عمل اليوم والليلة (324)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
في سماع محمد بن عبد الرحمٰن بن أسعد بن زرارة من قيس بن سعد بن عبادة نظر
وللحديث طريق آخر ضعيف عند النسائي في عمل اليوم والليلة (324)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5185
| اللهم اجعل صلواتك ورحمتك على آل سعد بن عبادة قال ثم أصاب رسول الله من الطعام فلما أراد الانصراف قرب له سعد حمارا قد وطأ عليه بقطيفة فركب رسول الله فقال سعد يا قيس اصحب رسول الله قال قيس فقال لي ر |
Sunan Abi Dawud Hadith 5185 in Urdu
محمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← قيس بن سعد الأنصاري