یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. باب في الرجل يصلي في قميص واحد
باب: آدمی ایک کرتے (قمیص) میں نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ،" أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کُرتے (قمیض) میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو (بٹن لگا لیا کرو)، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 632]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں شکاری آدمی ہوں۔ کیا میں صرف ایک قمیض میں نماز پڑھ لیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اسے بٹن لگا لیا کرو خواہ کانٹے ہی کے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القبلة 15 (766)، (تحفة الأشراف: 4533)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 54) (حسن)»
وضاحت: ظاہر ہے کہ اس سے مراد عرب کی خاص لمبی قمیص ہے۔ اگر اس کے نیچے شلوار یا چادر نہ بھی ہو تو نماز جائز ہے، بشرطیکہ ستر پوری طرح ڈھکا ہوا ہو، اگر ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اسے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (760)
صححه ابن خزيمة (777، 778 وسنده حسن) موسيٰ بن إبراھيم صرح بالسماع عند أحمد (4/49)
مشكوة المصابيح (760)
صححه ابن خزيمة (777، 778 وسنده حسن) موسيٰ بن إبراھيم صرح بالسماع عند أحمد (4/49)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
766
| زره عليك ولو بشوكة |
سنن أبي داود |
632
| وازرره ولو بشوكة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 632 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 632
632۔ اردو حاشیہ:
ظاہر ہے کہ اس سے مراد عرب کی خاص لمبی قمیص ہے، اگر اس کے نیچے شلوار یا چادر نہ بھی ہو تو نماز جائز ہے، بشرطیکہ ستر پوری طرح ڈھکا ہوا ہو، اگر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اسے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ظاہر ہے کہ اس سے مراد عرب کی خاص لمبی قمیص ہے، اگر اس کے نیچے شلوار یا چادر نہ بھی ہو تو نماز جائز ہے، بشرطیکہ ستر پوری طرح ڈھکا ہوا ہو، اگر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اسے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 632]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 766
ایک قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان۔
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 766]
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 766]
766 ۔ اردو حاشیہ: قمیص اگر لمبی ہو، گھٹنوں سے نیچی ہو کہ کسی بھی رکن کی ادائیگی میں گھٹنے آگے یا پیچھے سے ننگے نہ ہوتے ہوں تو اس احتیاط کے ساتھ اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں کہ سامنے کے گلے میں بٹن لگا لیا جائے تاکہ سامنے سے ستر نہ کھلے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 766]
Sunan Abi Dawud Hadith 632 in Urdu
موسى بن إبراهيم المخزومي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي