سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. باب الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ
باب: عورت سر پر دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے۔
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى لِي حَقْوَهُ، وَقَالَ لِي:" شُقِّيهِ بِشُقَّتَيْنِ، فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا، فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا: ”اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہو چکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 642]
امام محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، صفیہ ام طلحہ الطلحات کی مہمان ہوئیں۔ پس ان کی بیٹیوں کو دیکھا تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ میرے حجرے میں ایک نوعمر لڑکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند میری طرف پھینکا اور فرمایا: ”اسے دو حصوں میں پھاڑو اور ایک حصہ اس لڑکی کو دے دو اور دوسرا اس کو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بالغ (جوان) ہو گئی ہے۔ یا (فرمایا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں جوان ہو گئی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ہشام نے بھی ابن سیرین سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/96، 238) (ضعیف)» (ابن سیرین اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن سيرين لم يسمع من أم المؤمنين عائشة رضي اللّٰه عنھا (المراسيل لابن أبي حاتم ص188 رقم 687)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
إسناده ضعيف
محمد بن سيرين لم يسمع من أم المؤمنين عائشة رضي اللّٰه عنھا (المراسيل لابن أبي حاتم ص188 رقم 687)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن عبيد الغبري محمد بن عبيد الغبري ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
642
| شقيه بشقتين فأعطي هذه نصفا والفتاة التي عند أم سلمة نصفا فإني لا أراها إلا قد حاضت أو لا أراهما إلا قد حاضتا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 642 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 642
642۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم جوان کے لیے پردے کی تاکید ثابت ہے۔ اس لیے کہ بچیاں جب جوان ہو جائیں تو ان سے پردے کا اہتمام کروایا جائے۔ یہ خود بچیوں اور ان کے سرپرستوں کا لازمی فریضہ ہے۔ قرآن کی آیات اور دیگر صحیح احادیث اس پر صریح دلالت کرتی ہیں۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم جوان کے لیے پردے کی تاکید ثابت ہے۔ اس لیے کہ بچیاں جب جوان ہو جائیں تو ان سے پردے کا اہتمام کروایا جائے۔ یہ خود بچیوں اور ان کے سرپرستوں کا لازمی فریضہ ہے۔ قرآن کی آیات اور دیگر صحیح احادیث اس پر صریح دلالت کرتی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 642]
Sunan Abi Dawud Hadith 642 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق