یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب تسوية الصفوف
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ، فَقَالَ: اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ.
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے، پھر (نمازیوں کی طرف) متوجہ ہوتے، اور فرماتے: ”سیدھے ہو جاؤ، اپنی صفیں درست کر لو“، پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: ”سیدھے ہو جاؤ اور اپنی صفیں درست کر لو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 670]
جناب محمد بن مسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، پھر (دائیں صف کی طرف) متوجہ ہو کر کہتے ”سیدھے کھڑے ہو جاؤ، اپنی صفوں کو برابر کر لو۔“ پھر اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑتے (اور بائیں جانب متوجہ ہوتے) اور فرماتے ”سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اپنی صفوں کو برابر کر لو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1474) (ضعیف)» (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (669)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (669)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 670 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 670
670۔ اردو حاشیہ:
سنن ابی داود حدیث 669 اور 670 دونوں ضعیف ہیں۔ اس لیے اس میں صفوں کی درستی کی تاکید والی بات تو صحیح ہے، کیونکہ اس کا ذکر صحیح احادیث میں بھی ہے، لیکن اس کام کے لیے لکڑی کے استعمال والی بات صحیح نہیں ہے۔
سنن ابی داود حدیث 669 اور 670 دونوں ضعیف ہیں۔ اس لیے اس میں صفوں کی درستی کی تاکید والی بات تو صحیح ہے، کیونکہ اس کا ذکر صحیح احادیث میں بھی ہے، لیکن اس کام کے لیے لکڑی کے استعمال والی بات صحیح نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 670]
Sunan Abi Dawud Hadith 670 in Urdu
محمد بن مسلم المدني ← أنس بن مالك الأنصاري