سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. باب من لم يذكر الرفع عند الركوع
باب: جنہوں نے رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ".
اس طریق سے بھی یزید سے شریک ہی کی حدیث کی طرح حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے «ثم لا يعود» (پھر ایسا نہیں کرتے تھے) کا لفظ نہیں کہا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس کے بعد ہم سے یزید نے کوفہ میں «ثم لا يعود» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشیم، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے، ان لوگوں نے «ثم لا يعود» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 750]
عبداللہ بن محمد زہری رحمہ اللہ کی سند سے، یزید سے شریک کی مانند مروی ہے اور انہوں نے «ثُمَّ لَا يَعُودُ» کے لفظ ذکر نہیں کیے (یعنی ”پھر دوبارہ نہ اٹھاتے“ کے لفظ نقل نہیں کیے)۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”بعد میں کوفہ میں ہم کو «ثُمَّ لَا يَعُودُ» کے لفظ بیان کیے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو ہشیم، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے مگر ان حضرات نے «لَا يَعُودُ» کا لفظ روایت نہیں کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1785) (ضعیف)» (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(749)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(749)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
750
| إذا افتتح الصلاة رفع يديه إلى قريب من أذنيه ثم لا يعود |
Sunan Abi Dawud Hadith 750 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري