سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ،حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَاوُسٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي التَّهَجُّدِ يَقُولُ بَعْدَ مَا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں «الله اكبر» کہنے کے بعد دعا فرماتے تھے پھر انہوں نے اسی معنی کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5702، 5744) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (769)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 772 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 772
772۔ اردو حاشیہ:
معلوم ہوا یہ دعایئں جاگنے کے وقت نہیں ہیں، بلکہ نماز شروع کرتے ہوئے ثنا کے موقع کی ہیں۔
معلوم ہوا یہ دعایئں جاگنے کے وقت نہیں ہیں، بلکہ نماز شروع کرتے ہوئے ثنا کے موقع کی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 772]
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي