🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
143. باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه
باب: آدمی زمین پر ہاتھوں سے پہلے گھٹنے کس طرح رکھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 840]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو ایسے نہ بیٹھے جیسے کہ اونٹ بیٹھتا ہے، چاہیے کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 88 (269)، سنن النسائی/التطبیق 38 (1091)، (تحفة الأشراف: 13866)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/381)، سنن الدارمی/الصلاة 74 (1360) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے اور کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے «وليضع ركبتيه قبل يديه» (یعنی وہ ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے) لیکن محدث عبدالرحمن مبارک پوری، علامہ احمد شاکر، شیخ البانی وغیرہ نے ابن القیم کے اس خیال کی تردید کی ہے اور ابن خزیمہ کا کہنا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت «كنا نضع اليدين قبل الركبتين فأمرنا بالركبتين قبل اليدين» (پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا) انتہائی ضعیف ہے قطعاً قابل استدلال نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (899)
وللحديث شاھد عند الحاكم (1/226)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الله القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← محمد بن عبد الله القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1092
إذا سجد أحدكم فليضع يديه قبل ركبتيه ولا يبرك بروك البعير
سنن أبي داود
840
إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه
بلوغ المرام
245
إذا سجد احدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 840 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظہ الله، سنن ابوداود 840
سجدے میں جاتے وقت ہاتھ رکھنے کی کیفیت
➊ سجدے کے لیے جھکتے وقت پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا جائے:
جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے۔ «و ليضع يديه قبل ركبتيه» اور اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے۔
[صحيح: صحيح أبو داود: 746، كتاب الصلاة: باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه، أبو داود: 840، أحمد: 381/2، دارمي: 303/1، نسائي: 20732، دار قطني: 244/1، بيهقي: 100/2، شرح السنة: 249/2]
حافظ ابن حجرؒ نے اس حديث كو حضرت وائل بن حجر رضي الله عنہ سے مروي حديث سے قومي قرار ديا هے۔ [بلوغ المرام: 331 نيل الأوطار: 82/2، سبل السلام: 316/1]
➋ حضرت نافعؒ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
[ابن خزيمة: 628، دار قطني: 344/1، بيهقي: 100/2، حاكم: 226/1، بخاري تعليقا: 298/2]

جن علماء کے نزدیک پہلے گھٹنے زمین پر رکھنے چاہیں:
ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «رأيت النبى صلى الله عليه وسلم إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه» میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو دونوں گھٹنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے. اور جب سجدے کے لیے اٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔
[ضعيف: ضعيف أبو داود: 181، كتاب الصلاة: باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه، ضعيف ترمذي: 44، ضعيف نسائي: 49، ضعيف ابن ماجة: 185، إرواء الغليل: 357، أبو داود: 838، ترمذى: 267، نسائي: 234/2، ابن ماجة: 882، دار قطني: 345/1، ابن خزيمة: 626]
(جمہور، احناف) اسی ضعیف حدیث پر عمل کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار: 82/2]
(ابن قیمؒ) انہوں نے اسی (حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی) حدیث کو ترجیح دی ہے۔ [زاد المعاد: 222/1]
(مالکؒ، ابن حزمؒ) پہلی حدیث چونکہ زیادہ صحیح ہے لٰہذا اس پر عمل کیا جائے گا۔ [المحلى: 129/4 - 130]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 424]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 840
840۔ اردو حاشیہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی سند جید ہے جیسے کہ امام نووی اور زرقانی نے لکھا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حدیث وائل کی نسبت قوی تر فرمایا ہے۔ دیکھئے: [تمام المنة ص 193۔ 194]
اس لئے راحج یہی ہے کہ سجدے میں جاتے ہوئے زمین پر ہاتھ پہلے رکھے جایئں اور پھر گھٹنے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 840]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1092
سجدے میں سب سے پہلے زمین پر پہنچنے والے انسانی عضو کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنا ہاتھ زمین پر رکھے، اور وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1092]
1092۔ اردو حاشیہ: باب کی تیسری روایت دوسری روایت کی تفصیل ہے اور یہ پہلی روایت کے بالکل الٹ ہے۔ پہلی روایت اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم بعض نے اسے صحیح بھی کہا ہے، اس لیے ان کے نزدیک دونوں طرح جائز ہے کیونکہ ان کے خیال میں دونوں روایات صحیح ہیں۔ احناف وغیرہ نے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت کو ترجیح دی ہے کیونکہ جو عضو زمین کے زیادہ قریب ہے، وہ پہلے لگنا چاہیے اور جو دور ہے، وہ بعد میں۔ اکثر محدثین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو ترجیح دی ہے کیونکہ حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی روایت پر عمل کرنے سے اونٹ سے مشابہت ہوتی ہے اور اس مشابہت سے روکا گیا ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ہاتھ پہلے رکھنے چاہئیں گھٹنے بعد میں کیونکہ یہ فطرت انسانیہ کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰنے انسان کو سہارے کے لیے ہاتھ دیے ہیں۔ جانور تو مجبور ہیں کہ ان کے پاس ہاتھ نہیں ہیں، لہٰذا وہ بغیر سہارے کے بیٹھتے اٹھتے ہیں بلکہ سب کام بغیر ہاتھوں کے کرتے ہیں: کھانا، پینا، مارنا وغیرہ۔ مگر انسان کے لیے ہاتھوں کا استعمال ضروری ہے ورنہ جانوروں سے مشابہت ہو جائے گی۔ حدیث میں اونٹ کا ذکر ہے۔ اونٹ بیٹھتے وقت پہلے گھٹنے زمین پر رکھتا ہے۔ اگر گھٹنے پہلے رکھے جائیں تو ہاتھوں کا سہارا نہ ہونے کی وجہ سے گھٹنے اونٹ کی طرح زمین پر ٹکیں گے۔ بوڑھوں کے لیے مشکل بھی ہے اور چوٹ لگنے یا گرنے کا خطرہ بھی، لہٰذا اٹھتے بیٹھتے وقت ہاتھوں کا سہارا چاہیے، یعنی بیٹھتے وقت پہلے ہاتھ رکھیں، پھر گھٹنے اور اٹھتے وقت پہلے گھٹنے اٹھائیں، پھر ہاتھ۔ یاد رہے! اونٹ (بلکہ سب جانوروں) کے گھٹنے اگلے پاؤں میں ہتے ہیں، شکلا بھی، فعلا بھی، اور پچھلی ٹانگیں انسانوں کے بازوؤں جیسی ہوتی ہیں۔ چونکہ اونٹ سیدھا گھٹنوں پر بیٹھتا ہے، اس لیے اس کا خاص ذکر کیا گیا ہے اور اس کی مشابہت سے روکا گیا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1092]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 245
نماز کی صفت کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے اور گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے۔ (نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ) اور یہ حدیث وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے مروی اس حدیث سے قوی تر ہے جس میں ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ میں جاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے تھے۔
اس کو چاروں یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ پہلی حدیث کا شاہد ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقا موقوف بیان کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 245»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه، حديث:840، والترمذي، الصلاة، حديث:269، والنسائي، التطبيق، حديث:1092، وحديث وائل: "وضع ركبتيه قبل يديه" أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث: 838، والترمذي، الصلاة، حديث:268، والنسائي، التطبيق، حديث:1090، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:882، وسنده ضعيف، شريك القاضي عنعن، وحديث ابن عمر ذكره البخاري معلقًا موقوفًا، الأذان، قبل حديث:803، وابن خزيمة:1 /318، 319، حديث:627.»
تشریح:
1. حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرنے میں راویٔ حدیث شریک‘ عاصم بن کلیب سے بیان کرنے میں تنہا ہے۔
اور وہ جب تنہا کوئی روایت بیان کرے تو اس کی روایت میں محدثین نے کلام کیا ہے۔
اور حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تائید گو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے لیکن اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جو مجہول ہے‘ لہٰذا ثابت ہوا کہ باعتبار سند حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث راجح ہے۔
اور بحیثیت معنی تو یہ حقیقت معلوم ہے کہ حیوان کے گھٹنے اس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں‘ یعنی اس کی اگلی ٹانگوں میں گھٹنے ہوتے ہیں اور یہ مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ اونٹ جب نیچے بیٹھنے کے لیے جھکتا ہے تو پہلے اپنے گھٹنے زمین پر ٹیکتا ہے‘ پھر بیٹھتا ہے۔
جس کی تفصیل تحفۃ الأحوذي میں دیکھی جا سکتی ہے۔
2. سجدے میں جاتے وقت پہلے ہاتھ زمین پر رکھنے چاہییں یا گھٹنے؟ اس سلسلے میں دو روایتیں منقول ہیں: ایک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے‘ جس میں ہاتھوں کو پہلے زمین پر رکھنے کا ثبوت ہے اور دوسری حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں پہلے گھٹنے رکھنے کا ذکر ہے۔
مصنف‘ یعنی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو راجح قرار دیا ہے۔
اور اس کی تائید حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے بھی ہوتی ہے۔
عام محدثین اور حنابلہ اسی کے قائل ہیں مگر احناف اور شوافع حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق پہلے گھٹنے رکھنے کے قائل ہیں۔
صحیح بات یہی ہے کہ پہلے ہاتھ رکھے جائیں جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 245]

Sunan Abi Dawud Hadith 840 in Urdu