سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" إِذَا أَنْتَ قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَكَبِّرِ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَقَالَ فِيهِ: فَإِذَا جَلَسْتَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ فَاطْمَئِنَّ وَافْتَرِشْ فَخِذَكَ الْيُسْرَى ثُمَّ تَشَهَّدْ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ فَمِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ".
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو (پہلے) «الله اكبر» کہو، پھر قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو پڑھو“، اور اس میں ہے: ”جب تم نماز کے بیچ میں بیٹھو تو اطمینان و سکون سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو ایسا ہی کرو یہاں تک کہ تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 860]
جناب علی بن یحییٰ بن خلاد بن رافع اپنے والد سے، وہ اپنے چچا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنی نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ عزوجل کی تکبیر کہو، پھر جو تمہیں قرآن سے آسان لگے وہ پڑھو۔“ اس روایت میں مزید فرمایا: ”جب تم نماز کے دوران میں بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو پہلے کی طرح کرو، حتیٰ کہ اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 857، (تحفة الأشراف: 3604) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (597، 638 وسندھما حسن)
صححه ابن خزيمة (597، 638 وسندھما حسن)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 860 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله،ابوداود 860
درمیانہ تشہد اور درمیانہ قعدہ واجب ہے
➋ حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«فإذا جلست فى وسط الصلاة فاطمئن وافترش فخذك اليسرى ثم تشهد»
”جب تم نماز کے درمیان میں بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھالو پھر تشہد پڑھو۔“
[حسن: صحيح أبو داود: 766، كتاب الصلاة: باب صلاة من لا يقيم صلبه فى الركوع والسجود، تمام المنة: ص/ 170، أبو داود: 860]
(البانیؒ) اس حدیث میں پہلے تشہد کے وجوب کی دلیل ہے اور (پہلے) قعدے کا وجوب اس کے لیے لازم ہے (یعنی تشہد تب ہی ہو گا جب قعدہ ہو گا تو جب ایک واجب ہے تو دوسرا بھی واجب ہوا۔) [تمام المنة: ص/ 170]
کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ «ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب» ”جو چیز واجب کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہو وہ بھی واجب ہے۔“ [المستصفى للغزالي: 71/1-72، تيسير التحرير: 365/1]
(شوکانیؒ) درمیانے تشہد کا حکم وہی ہے جو آخری تشہد کا ہے۔ [نيل الأوطار: 103/1]
ابن حزمؒ درمیانہ تشہد اور درمیانہ قعدہ دونوں واجب ہیں۔ [المحلى بالآثار: 299/2-301]
(احمدؒ، لیثؒ، اسحاقؒ) اسی کے قائل ہیں۔
(ابو حنیفہؒ، مالکؒ، شافعیؒ) یہ دونوں واجب نہیں ہیں۔
[الفقه الإسلامي وأدلته: 850/2، المغني: 217/2، نيل الأوطار: 103/1]
جن علماء کے نزدیک درمیانہ تشہد اور درمیانہ قعدہ واجب نہیں ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ان رسول الله قام من اثنتين من الظهر لم يجلس بينهما» ”رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے متصل بعد کھڑے ہو گئے (یعنی درمیانہ تشہد نہ پڑھا) اور ان کے درمیان نہ بیٹھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو دو سجدے کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ [بخاري: 1225 - 1224، كتاب الجمعة: باب ما جاء فى السهو إذا قام من ركعتي الفريضة، مسلم: 570، موطا: 96/1، دارمي: 352/1، أبو داود: 1034، ترمذي: 389، نسائي: 19/3، ابن ماجة: 1206]
امام ابن حزمؒ رقمطراز ہیں کہ یہ استدلال کچھ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ جس سنت سے تشہد کا وجوب ثابت ہوتا ہے اسی سنت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسے بھول جانے سے (صرف دو سجدے کر لینے پر ہی) نماز ہو جاتی ہے۔ [المحلى بالآثار: 301/2]
(راجح) درمیانہ تشہد اور درمیانہ قعدہ آخری تشہد و قعدہ کی طرح ہی واجب ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ درمیانہ تشہد و قعدہ اگر (بھول کر) رہ جائے تو سجدہ سہو اس سے کفایت کر جاتا ہے جبکہ آخری تشہد میں ایسا نہیں ہوتا۔ [المغني: 217/2، نيل الأوطار: 103/1]
➋ حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«فإذا جلست فى وسط الصلاة فاطمئن وافترش فخذك اليسرى ثم تشهد»
”جب تم نماز کے درمیان میں بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھالو پھر تشہد پڑھو۔“
[حسن: صحيح أبو داود: 766، كتاب الصلاة: باب صلاة من لا يقيم صلبه فى الركوع والسجود، تمام المنة: ص/ 170، أبو داود: 860]
(البانیؒ) اس حدیث میں پہلے تشہد کے وجوب کی دلیل ہے اور (پہلے) قعدے کا وجوب اس کے لیے لازم ہے (یعنی تشہد تب ہی ہو گا جب قعدہ ہو گا تو جب ایک واجب ہے تو دوسرا بھی واجب ہوا۔) [تمام المنة: ص/ 170]
کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ «ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب» ”جو چیز واجب کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہو وہ بھی واجب ہے۔“ [المستصفى للغزالي: 71/1-72، تيسير التحرير: 365/1]
(شوکانیؒ) درمیانے تشہد کا حکم وہی ہے جو آخری تشہد کا ہے۔ [نيل الأوطار: 103/1]
ابن حزمؒ درمیانہ تشہد اور درمیانہ قعدہ دونوں واجب ہیں۔ [المحلى بالآثار: 299/2-301]
(احمدؒ، لیثؒ، اسحاقؒ) اسی کے قائل ہیں۔
(ابو حنیفہؒ، مالکؒ، شافعیؒ) یہ دونوں واجب نہیں ہیں۔
[الفقه الإسلامي وأدلته: 850/2، المغني: 217/2، نيل الأوطار: 103/1]
جن علماء کے نزدیک درمیانہ تشہد اور درمیانہ قعدہ واجب نہیں ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ان رسول الله قام من اثنتين من الظهر لم يجلس بينهما» ”رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے متصل بعد کھڑے ہو گئے (یعنی درمیانہ تشہد نہ پڑھا) اور ان کے درمیان نہ بیٹھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو دو سجدے کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ [بخاري: 1225 - 1224، كتاب الجمعة: باب ما جاء فى السهو إذا قام من ركعتي الفريضة، مسلم: 570، موطا: 96/1، دارمي: 352/1، أبو داود: 1034، ترمذي: 389، نسائي: 19/3، ابن ماجة: 1206]
امام ابن حزمؒ رقمطراز ہیں کہ یہ استدلال کچھ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ جس سنت سے تشہد کا وجوب ثابت ہوتا ہے اسی سنت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسے بھول جانے سے (صرف دو سجدے کر لینے پر ہی) نماز ہو جاتی ہے۔ [المحلى بالآثار: 301/2]
(راجح) درمیانہ تشہد اور درمیانہ قعدہ آخری تشہد و قعدہ کی طرح ہی واجب ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ درمیانہ تشہد و قعدہ اگر (بھول کر) رہ جائے تو سجدہ سہو اس سے کفایت کر جاتا ہے جبکہ آخری تشہد میں ایسا نہیں ہوتا۔ [المغني: 217/2، نيل الأوطار: 103/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 380]
Sunan Abi Dawud Hadith 860 in Urdu
يحيى بن خلاد الأنصاري ← رفاعة بن رافع الزرقي