پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. باب في الدعاء في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدے میں دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 879
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ" سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات (اپنے پاس بستر پر) نہیں پایا تو میں نے آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ میں ٹٹولا تو کیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہیں اور آپ یہ دعا کر رہے ہیں: «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» یعنی ”اے اللہ! میں تیرے غصے سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 879]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے بستر سے) گم پایا تو میں نے انہیں ان کے مصلے پر ٹٹولا تو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات پڑھ رہے تھے: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”(اے اللہ!) میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی اور تیری پکڑ سے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تجھ سے (ڈر کر) تیری ہی پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری تعریفات شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے جیسے کہ تو نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے۔““ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 42 (486)، سنن النسائی/الطھارة 119، باب 120(169)، والتطبیق 47 (1101)، 71 (1131)، والاستعاذة 62 (5536)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3841)، (تحفة الأشراف: 17807)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 8 (31)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (486)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
169
| أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك |
سنن النسائى الصغرى |
1101
| أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وبك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك |
سنن النسائى الصغرى |
1131
| أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك |
صحيح مسلم |
1090
| أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك |
جامع الترمذي |
3493
| أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك |
سنن أبي داود |
879
| أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك |
سنن ابن ماجه |
3841
| أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك |
سنن النسائى الصغرى |
5536
| أعوذ بعفوك من عقابك وأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بك منك |
المعجم الصغير للطبراني |
28
| أخذك شيطانك يا عائشة ، قلت : ولي شيطان ؟ ، فقال : نعم ، ولجميع بني آدم ، قلت : ولك شيطان ؟ ، فقال ، قال : نعم ، ولكن الله أعانني عليه فأسلم |
Sunan Abi Dawud Hadith 879 in Urdu
أبو هريرة الدوسي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق