🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
175. باب التصفيق في الصلاة
باب: نماز میں عورتوں کے تالی بجانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ؟ فَأُقِيمَ، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَّلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا فِي الْفَرِيضَةِ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے، اور نماز کا وقت ہو گیا، مؤذن نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا: کیا آپ نماز پڑھائیں گے، میں تکبیر کہوں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں (تکبیر کہو میں نماز پڑھاتا ہوں)، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور لوگ نماز میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے (پہلی) صف میں آ کر کھڑے ہو گئے تو لوگ تالی بجانے لگے ۱؎ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نگاہ پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اشارہ سے فرمایا: تم اپنی جگہ پر کھڑے رہو، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا، اللہ کا شکر ادا کیا، پھر پیچھے آ کر صف میں کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو اپنی جگہ پر قائم رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابوقحافہ ۲؎ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کیا بات تھی؟ تم اتنی زیادہ کیوں تالیاں بجا رہے تھے؟ جب کسی کو نماز میں کوئی معاملہ پیش آ جائے تو وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ سبحان الله کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ فرض نماز کا واقعہ ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 940]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف (قباء) میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ نماز کا وقت ہو گیا، تو مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نماز پڑھائیں گے، تو میں اقامت کہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی اور ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور چلتے آئے، حتیٰ کہ صف میں کھڑے ہو گئے، لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھتے تھے (متوجہ نہ ہوتے تھے) لیکن جب لوگوں نے بہت زیادہ تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انہیں حکم دیا تھا اس پر اللہ کی حمد کی اور پھر پیچھے ہٹ آئے، حتیٰ کہ صف میں برابر ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے ابوبکر! تمہیں کیا مانع تھا کہ تم رکے رہتے جب میں نے تمہیں کہہ دیا تھا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ابن ابی قحافہ کو زیب نہ دیتا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہو کر نماز پڑھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو کیا ہوا تھا کہ اس قدر تالیاں بجانے لگے تھے؟ جسے نماز میں کوئی عارض ہو وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہا کرے۔ جب وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی۔ تالیاں تو عورتوں کے لیے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ فرض نماز میں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العمل في الصلاة 5 (1204)، صحیح مسلم/الصلاة 22 (421)، (تحفة الأشراف: 4743)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 7 (785)، 15(794)، السہو 4 (1183)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 65 (1034)، موطا امام مالک/قصة الصلاة 20 (61)، مسند احمد (5/336)، سنن الدارمی/الصلاة 95 (1404) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو جائے۔
۲؎: ابوقحافہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد کی کنیت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (684) صحيح مسلم (421)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← سلمة بن دينار الأعرج
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7190
ليسبح الرجال يصفح النساء
صحيح البخاري
684
ما لي رأيتكم أكثرتم التصفيق من رابه شيء في صلاته فليسبح فإنه إذا سبح التفت إليه التصفيق للنساء
صحيح البخاري
1218
ما لكم حين نابكم شيء في الصلاة أخذتم بالتصفيح التصفيح للنساء من نابه شيء في صلاته فليقل سبحان الله
صحيح البخاري
1204
التسبيح للرجال التصفيح للنساء
صحيح البخاري
1234
ما لكم حين نابكم شيء في الصلاة أخذتم في التصفيق التصفيق للنساء من نابه شيء في صلاته فليقل سبحان الله فإنه لا يسمعه أحد حين يقول سبحان الله إلا التفت إليه
صحيح مسلم
949
ما لي رأيتكم أكثرتم التصفيق من نابه شيء في صلاته فليسبح فإنه إذا سبح التفت إليه التصفيح للنساء
سنن أبي داود
940
ما لي رأيتكم أكثرتم من التصفيح من نابه شيء في صلاته فليسبح فإنه إذا سبح التفت إليه التصفيح للنساء
سنن أبي داود
941
يسبح الرجال ليصفح النساء
سنن النسائى الصغرى
785
ما لكم حين نابكم شيء في الصلاة أخذتم في التصفيق التصفيق للنساء من نابه شيء في صلاته فليقل سبحان الله فإنه لا يسمعه أحد حين يقول سبحان الله إلا التفت إليه ما منعك أن تصلي للناس حين أشرت إليك قال أبو بكر ما كان ينبغي لابن أبي قحافة أن يصلي ب
سنن النسائى الصغرى
1184
ما بالكم صفحتم إنما التصفيح للنساء إذا نابكم شيء في صلاتكم فسبحوا
سنن النسائى الصغرى
5415
ما لكم إذا نابكم شيء في صلاتكم صفحتم إن ذلك للنساء من نابه شيء في صلاته فليقل سبحان الله
سنن ابن ماجه
1035
التسبيح للرجال التصفيق للنساء
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
87
ما لي رايتكم اكثرتم من التصفيق، من نابه شيء فى صلاته فليسبح، فإنه إذا سبح التفت إليه، وإنما التصفيق للنساء
مسندالحميدي
956
يا أبا بكر، ما منعك حين أشرت إليك؟
Sunan Abi Dawud Hadith 940 in Urdu