سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
184. باب التَّشَهُّدِ
باب: تشہد (التحیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ،عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عُلِّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ شَرِيكٌ: وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ، قَالَ:" وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ: اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ شریک کہتے ہیں: ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابووائل سے اور ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں: «اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاكرين لنعمتك مثنين بها قابليها وأتمها علينا» ”اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار و ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 969]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم نہیں جانتے تھے کہ نماز میں جب بیٹھیں تو کیا پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا گیا تھا“، پھر انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ جناب شریک نے «أَخْبَرَنَا جَامِعٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ» اسی کی مثل بیان کیا۔ کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کئی طرح کے کلمات سکھاتے تھے، مگر جس اہتمام سے کلماتِ تشہد تعلیم فرماتے تھے، دیگر میں ایسے نہ ہوتا تھا۔ (غیر تشہد کے اذکار میں سے یہ بھی ہے) «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ، مُثْنِينَ بِهَا، قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے دلوں میں (ایک دوسرے کی) الفت پیدا فرما دے اور ہمارے آپس کے روابط کو عمدہ بنا دے، ہمیں سلامتی کے راستوں کی رہنمائی فرما اور اندھیروں سے بچا کر نور میں پہنچا دے، اور تمام طرح کی ظاہری اور چھپی بدکاریوں سے محفوظ رکھ۔ ہمارے کانوں، آنکھوں، دلوں، گھر والیوں، (بیویوں) اور بچوں میں برکتیں عطا فرما۔ (اے اللہ!) اور ہم پر رجوع فرما (ہماری توبہ قبول فرما) بلاشبہ تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے، ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا بنا دے اور یہ کہ ہم ان کا کما حقہ اعتراف کریں اور انہیں برمحل استعمال میں لائیں اور ان نعمتوں کو ہم پر کامل فرما دے۔“” [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (ضعیف)» (شریک کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح ، ومن قوله : قال شريك : ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (1164 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (1164 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 969 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 969
969۔ اردو حاشیہ:
➊ «ازواج» جمع «زوج» اضداد میں سے ہے۔ شوہر کے مقابلے میں بیوی اور بیوی کے مقابلے میں شوہر کے معنی میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ ساتھی اور جوڑے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس طرح اس کے معنی میں بڑی وسعت ہے۔
➋ شروع حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا گیا تھا۔ بلاشبہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین و عبادت میں کوئی معمولی سی بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے اور ہمیں دین کی تمام تفصیلات و جزیئات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی لینی ہیں۔ چنانچہ ہم تمام مسلمانوں کی فکر بھی یہی ہونی چاہیے، اس فکر سے انسان بدعات سے بچ سکتا ہے۔
➊ «ازواج» جمع «زوج» اضداد میں سے ہے۔ شوہر کے مقابلے میں بیوی اور بیوی کے مقابلے میں شوہر کے معنی میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ ساتھی اور جوڑے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس طرح اس کے معنی میں بڑی وسعت ہے۔
➋ شروع حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا گیا تھا۔ بلاشبہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین و عبادت میں کوئی معمولی سی بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے اور ہمیں دین کی تمام تفصیلات و جزیئات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی لینی ہیں۔ چنانچہ ہم تمام مسلمانوں کی فکر بھی یہی ہونی چاہیے، اس فکر سے انسان بدعات سے بچ سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 969]
Sunan Abi Dawud Hadith 969 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود