سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
184. باب التشهد
باب: تشہد (التحیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ" فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ".
قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا (اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کر لی تو تمہاری نماز پوری ہو گئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 970]
قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ جناب علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات تعلیم فرمائے اور حدیثِ اعمش کی دعا کے مانند بیان کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہ کہہ لو، یا فرمایا پورا کر لو، تو تم نے اپنی نماز پوری کر لی۔ اگر چاہو تو اٹھ جاؤ اور اگر چاہو تو بیٹھے رہو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9474)، وانظر رقم (968)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/422) (شاذ)» ( «إذا قلت...الخ» کا اضافہ شاذ ہے صحیح بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا ابن مسعود کا اپنا قول ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة إذا قلت
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وأصله عند النسائي (1168) وقوله: ’’إذا قلت ھذا‘‘ مدرج باتفاق الحفاظ، انظر المدرج إلي المدرج للسيوطي (ص20)
وأصله عند النسائي (1168) وقوله: ’’إذا قلت ھذا‘‘ مدرج باتفاق الحفاظ، انظر المدرج إلي المدرج للسيوطي (ص20)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 970 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 970
970۔ اردو حاشیہ:
اس روایت کا یہ حصہ «واذ قلت» ”جب تم یہ کہہ لو“ آخر تک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ان کا اپنا قول اور حدیث میں مدرج ہے۔ دیکھئے: [عون المبعود]
اور حق یہ ہے کہ تشہد پڑھنا واجب ہے۔
➋ نقل احادیث میں اس قسم کے لطائف موجود ہیں کہ راوی حدیث بیان کرنے میں اپنے شیخ کی ظاہری کیفیت کو بھی اختیار کرتے تھے، جیسے کہ اس میں ہاتھ پکڑ کر حدیث بیان کرنے کا ذکر آیا ہے اور اسے ”مسلسل“ کی ایک نوع قرار دیا گیا ہے۔
اس روایت کا یہ حصہ «واذ قلت» ”جب تم یہ کہہ لو“ آخر تک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ان کا اپنا قول اور حدیث میں مدرج ہے۔ دیکھئے: [عون المبعود]
اور حق یہ ہے کہ تشہد پڑھنا واجب ہے۔
➋ نقل احادیث میں اس قسم کے لطائف موجود ہیں کہ راوی حدیث بیان کرنے میں اپنے شیخ کی ظاہری کیفیت کو بھی اختیار کرتے تھے، جیسے کہ اس میں ہاتھ پکڑ کر حدیث بیان کرنے کا ذکر آیا ہے اور اسے ”مسلسل“ کی ایک نوع قرار دیا گیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 970]
Sunan Abi Dawud Hadith 970 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود