صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
644. (411) باب ذكر نفي إيجاب قضاء الصلاة عن الحائض بعد طهرها من حيضها
حیض والی عورت کے پاک ہونے کے بعد، نماز کی قضاء نہ دینے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1001
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، وَيَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ : " أَتَقْضِي الْحَائِضُ لِلصَّلاةِ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ كَانَتْ تَحِيضُ فَلا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ، قَالَتْ: وَذَكَرَتْ أَنَّهَا سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا روایت بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، کیا حائضہ عورت نماز کی قضا دے گی؟ تو اُنہوں نے فرمایا، کیا تم حروریہ (خارجیہ) ہو؟ (عہد رسالت میں) وہ حیض سے ہوتی تھی تو اُسے قضاء دینے کا حُکم نہیں دیا جاتا تھا۔ معاذہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ اُنہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
معاذة بنت عبد الله العدوية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق