صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
648. (415) باب الصلاة على البساط إن كان زمعة يجوز الاحتجاج بخبره
بچھونوں پر نماز پڑھنےکا بیان، اگر زمعہ راوی کی روایت قابل حجت ہو
حدیث نمبر: 1005
نَا بُنْدَارٌ ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، أنا زَمْعَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنَ وَهْرَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ" ، وَقَالَ نَصْرٌ فِي حَدِيثِهِ: صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى بِسَاطٍ، وَقَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِسَاطٍ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْقَلْبِ مِنْ زَمْعَةَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھونے (دری، چٹائی، فرش اور قالین) پر نماز ادا فرمائی ہے۔ جناب نصر بن علی نے اپنی روایت میں کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی بچھونے پر نماز ادا کی۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھونے پر نماز پڑھی ہے امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ زمعہ راوی کے متعلق میرے دل میں عدم اطمینان ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1030، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4354، 4355، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2089»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1005 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1005
فوائد:
➊ صحتِ نماز کے لیے نماز کی جگہ اور چٹائی، دری اور صف کا پاک ہونا شرط ہے۔
➋ نیز ہر پاک چیز مثلِ چٹائی، دری اور صف وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ چٹائی وغیرہ نمازی کو نماز سے غافل نہ کرتی ہو۔
➊ صحتِ نماز کے لیے نماز کی جگہ اور چٹائی، دری اور صف کا پاک ہونا شرط ہے۔
➋ نیز ہر پاک چیز مثلِ چٹائی، دری اور صف وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ چٹائی وغیرہ نمازی کو نماز سے غافل نہ کرتی ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1005]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1005 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي