صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
656. (423) باب الأمر بالانصراف من الصلاة إذا أحدث المصلي فيها
جب نمازی کا وضو ٹوٹ جائے تو نماز ختم کردینے کے حُکم کا بیان،
حدیث نمبر: Q1019
وَوَضْعِ الْيَدِ عَلَى الْأَنْفِ كَيْ يُتَوَهَّمَ النَّاسُ أَنَّهُ رَاعِفٌ لَا مُحْدِثٌ حَدَثًا مِنْ دُبُرٍ
اور ناک پر ہاتھ رکھنے کا بیان تاکہ دیگر نمازی خیال کریں کہ اس کی نکسیر پھوٹ پڑی ہے، نہ کی اس کی ہوا خارج ہوگئی ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: Q1019]
حدیث نمبر: 1019
نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الْبِرْيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ وَلْيَنْصَرِفْ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا وضو نماز کے دوران ٹوٹ جائے تو اُسے چاہیے کہ اپنا ہاتھ اپنی ناک پر رکھے اور نماز سے نکل جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1019]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 246، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1019، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2238، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 660، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1222، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3430، والدارقطني فى (سننه) برقم: 585»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1019 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1019
فوائد:
دورانِ نماز وضو ٹوٹنے کی صورت میں بے وضو شخص ناک پر ہاتھ رکھے، یہ امر استحباب کے لیے ہے۔
◈ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو ناک پر ہاتھ رکھنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ وہ حاضرین کو یہ باور کرائے کہ اس کی نکسیر پھوٹی ہے، نیز اس طریقہ میں ستر پوشی کے ادب، قبیح چیز کو چھپانے اور احسن توریہ اختیار کرنے کا بیان ہے اور اس عمل میں ریا اور جھوٹ شامل نہیں ہے۔
بلکہ اس میں حیا کے استعمال اور لوگوں کے طعن و تشنیع سے محفوظ رہنے کے احسن طریقے کا بیان ہے۔“ [عون المعبود: 7/4]
دورانِ نماز وضو ٹوٹنے کی صورت میں بے وضو شخص ناک پر ہاتھ رکھے، یہ امر استحباب کے لیے ہے۔
◈ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو ناک پر ہاتھ رکھنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ وہ حاضرین کو یہ باور کرائے کہ اس کی نکسیر پھوٹی ہے، نیز اس طریقہ میں ستر پوشی کے ادب، قبیح چیز کو چھپانے اور احسن توریہ اختیار کرنے کا بیان ہے اور اس عمل میں ریا اور جھوٹ شامل نہیں ہے۔
بلکہ اس میں حیا کے استعمال اور لوگوں کے طعن و تشنیع سے محفوظ رہنے کے احسن طریقے کا بیان ہے۔“ [عون المعبود: 7/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1019]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1019 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق