صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
675. (442) باب ذكر الدليل على أن المسبوق بركعة أو ثلاث لا تجب عليه سجدتا السهو بجلوسه فى الأولى والثالثة اقتداء بإمامه،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس شخص کی ایک رکعت یا تین رکعات (امام کے ساتھ) چھوٹ جائیں تو امام کی اقتداء کرتے ہوئے پہلی اور تیسری رکعت میں اس کے بیٹھنے سے اس پر سہو کے دو سجدے واجب نہیں ہوتے
حدیث نمبر: 1065
نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، نَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلاةِ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمَدُ إِلَى الصَّلاةِ، فَهُوَ فِي صَلاةٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو تم نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آؤ، بلکہ سکون و اطمینان کے ساتھ نماز کے لئے آؤ، جو نماز تمہیں مل جائے وہ پڑھ لو اور جو تم سے فوت ہو جائے اسے مکمّل کرلو، کیونکہ تم میں سے کوئی شخص جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نماز کی حالت میں ہوجاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي