صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
689. (456) باب النائم عن الوتر أو الناسي له يصبح قبل أن يوتر
اس شخص کا بیان جو وتر سے سو یا رہ جائے یا بھول جائے اور وتر پڑھںے سے پہلے اسے صبح ہوجائے
حدیث نمبر: 1092
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ وَلَمْ يُوتِرْ، فَلا وِتْرَ لَهُ"
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جس شخص کی وتر پڑھے بغیر صبح ہوگئی تو اس کا کوئی وتر نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1092، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2408، 2414، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1129، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4586، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2306، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4591»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← المنذر بن مالك العوفي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل عبدة بن عبد الله الخزاعي ← أبو داود الطيالسي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1092 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1092
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز وتر کا وقت طلوع فجر سے قبل تک ہے۔
طلوع فجر کے بعد نماز وتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
البتہ نیند یا بھول کی وجہ سے جس کا وتر چھوٹ جائے وہ طلوع آفتاب کے بعد بھی وتر پڑھ سکتا ہے۔
❀ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَ»
”جو شخص اپنے وتر سے سویا رہے یا بھول جائے، اسے جب یاد آئے وتر ادا کر لے۔“ [صحيح الجامع: 6562]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز وتر کا وقت طلوع فجر سے قبل تک ہے۔
طلوع فجر کے بعد نماز وتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
البتہ نیند یا بھول کی وجہ سے جس کا وتر چھوٹ جائے وہ طلوع آفتاب کے بعد بھی وتر پڑھ سکتا ہے۔
❀ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَ»
”جو شخص اپنے وتر سے سویا رہے یا بھول جائے، اسے جب یاد آئے وتر ادا کر لے۔“ [صحيح الجامع: 6562]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1092]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1092 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري